خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 334 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 334

خطبات طاہر جلد۵ 334 خطبه جمعه ۹ رمئی ۱۹۸۶ء ہے گویا اُس کا بدلہ ابھی باقی ہے۔میرے احسانات کے نیچے تو دبا پڑا ہے ، کونسی چیز ہے جو تو اپنے گھر سے لایا تھا اور ابھی وہ بے قیمت کی نیکی تجھے یاد ہے کہ اس کی قیمت ابھی باقی پڑی ہے۔یہ جواب نہیں دیتا خدا تعالیٰ کی کریمی اُس کی توقع کی شرم رکھتی ہے، اُس دعا کی شرم رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ اُس پتھر کو حکم دیتا ہے اور وہ پھر تھوڑا سا سرک جاتا ہے۔آنحضور ﷺ فرماتے ہیں کہ پھر دوسرے کو بھی ایک نیکی یاد آ گئی۔ابھی اس پتھر کے سرکنے سے سب نکل نہیں سکتے تھے۔اور اس میں جو لطیف مضمون آنحضور ﷺ نے بیان فرمایا ہے وہ یہی ہے جو عموماً اس حدیث پر غور کرنے والے یا اس سے لطف اٹھانے والے نظر انداز کر دیتے ہیں اگر ایک ہی شخص کے پاس ایسی تین نیکیاں ہوتیں تو پھر تین آدمیوں کو وہاں اکٹھا کر کے یہ مضمون بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی۔تمام عمر کا خلاصہ تھا اُس ایک آدمی کی نیکی اور وہ بھی اتنی بھاری نہیں تھی کہ اس کے نتیجے میں وہ ساری آفت ٹل سکے۔پھر ایک دوسر آدمی اٹھتا ہے اور کہتا ہے ، اے خدا! مجھے بھی ایک نیکی یاد آئی ہے، میں نے بھی یہ حرکت کی تھی اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ تیری خاطر کی تھی اور وہ پتھر پھر اور سرک جاتا ہے لیکن ابھی وہ اس سے نکل نہیں سکتے۔اگر اس کے دامن میں بھی کوئی ایسی نیکی ہوتی کہ وہ سمجھتا کہ اس پتھر کو اور سرک جانا چاہئے تو وہ پیش کر دیتا لیکن کچھ پیش نہیں کر سکا۔پھر ایک اور تیسرے بندے نے جو اسی غار میں قید تھا اپنی ایک نیکی یاد کی اور خدا کے حضور پیش کی۔اور بعض نیکیاں اُن میں سے ایسی ہیں جنہیں نیکی شمار کرنا بھی تعجب انگیز ہے۔بدیوں سے رکنے کا نام نیکی رکھا گیا ہے۔یہ ایسی نیکی ہے جیسے کوئی کسی سے کہے کہ فلاں وقت میں تجھے قتل کر سکتا تھا میں نے نہیں کیا۔دیکھو کتنی بڑی نیکی کی ہے تمہارے اوپر۔فلاں وقت زہر کھا سکتا تھا میں نے نہیں کھایا دیکھوں کتنی بڑی نیکی کی ہے۔اس قسم کی نیکیاں بھی شامل کر دی گئیں بیچ میں اور اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ اُس نے اُن نیکیوں کو بھی قبول فرمالیا۔( صحیح البخاری کتاب المزارعہ حدیث نمبر : ۲۱۶۵) پس میں اس سے یہ نتیجہ نکالتا ہوں کہ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِی میں خدا تعالیٰ کی شان رحمت اور شان کریمی اتنی وسیع ہے کہ ہر بات میں اُس کی اطاعت نہ بھی کرو تب بھی قبولیت دعا کا فیض انسان کو پہنچ سکتا ہے اور پہنچتا رہتا ہے۔ورنہ کروڑہا کروڑ بندے جو گناہوں میں ملوث رہتے ہیں اُن کی تو کبھی ایک دعا بھی قبول نہیں ہونی چاہئے۔پس صاحب تجر بہ بیان کرتے ہیں، صاحب عرفان