خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 333 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 333

خطبات طاہر جلد۵ 333 خطبه جمعه ۹ رمئی ۱۹۸۶ء دونوں پہلوؤں سے اس قدر تجارب بھی بیان فرمائے ہیں اور اس قدر باریک نکات بھی بیان فرمائے ہیں کہ کوئی بھی تشنگی کا پہلو باقی نہیں چھوڑا۔امر واقعہ یہ ہے کہ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جن جن باتوں میں بندہ خدا کی باتوں کا جواب دیتا ہے۔اللہ اتنا رحم کرنے والا ہے کہ جن باتوں میں جواب نہیں دیتا اُن کو نظر انداز فرما کر بھی ان باتوں میں اس کا جواب دینے لگ جاتا ہے جن میں وہ خدا کے سامنے سیدھا ہو چکا ہوتا ہے اور یہ انتظار نہیں کرتا کہ کامل طور پر میرا غلام ہو جائے تب میں اس کی باتیں سنوں حالانکہ بندہ اپنے سلوک میں ایسا نہیں کرتا۔ایسے بھی مالک ہیں کہ جن کے نوکر ہر بات میں اطاعت کر رہے ہوتے ہیں اور پوری کوشش کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم کسی طرح ما لک کو خوش کریں لیکن ایک ادنی اسی غلطی پر مالک اس قدر ناراض ہو جاتا ہے کہ اُس کی ساری عمر کی خدمتوں کو ضائع کر دیتا ہے اور اس کا کوئی بھی بدلہ اُس کو نہیں دیتا۔آپ تو بندہ بندے سے یہ سلوک کر رہا ہوتا ہے اور خدا سے یہ چاہتا ہے کہ اُس کی کوئی بات بھی نہ مانے اور پھر بھی خدا اس کی ہر بات مانے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت اتنی وسیع ہے اُس کے معاملے اپنے بندوں سے ایسے کریمانہ ہیں کہ وہ بسا اوقات اس کے برعکس سلوک کرتا ہے جو بندہ بندے سے کرتا ہے اس کے غلام ہزار باتیں اُس کی نہیں مانتے بعض دفعہ ایک مان جاتے ہیں تو خدا کی کریمی اُس ایک مانی ہوئی بات کی بھی شرم رکھ لیتی ہے۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے ایک موقع پر تین ایسے انسانوں کی مثال دی جو ایک غار میں بند ہو گئے ، جس کے دہانے پر زلزلہ سے یا کسی وجہ سے ایک پتھر آ گرا اور ان کے نکلنے کا کوئی رستہ نہیں تھا۔اس پر اُن تینوں نے باری باری دعایہ کی اور دعا کی تفصیل حضور اکرم ﷺے بیان فرماتے ہیں کہ اے خدا! فلاں وقت جو میں نے ایک نیکی کی تھی ، اگر وہ تیری خاطر تھی تو اس ایک نیکی کے بدلے یہ پتھر اس سے سر کا دے۔اب وہ ساری عمر کے حالات پر غور کرنے کے بعد یوں معلوم ہوتا ہے کہ اُس کو صرف ایک ہی نیکی ملی ہے۔جو جس کے متعلق وہ یقین کے ساتھ خدا کے حضور پیش کر سکتا ہے کہ اس میں میری کوئی بد نیتی نہیں تھی، کوئی ریا کاری نہیں تھی، کوئی نفسانی خواہش نہیں تھی محض اللہ کی گئی تھی۔اللہ تعالیٰ یہ جواب نہیں دیتا کہ تیری تو ساری عمر ضائع ہوئی پڑی ہے، کچھ بھی تیرے پلے نہیں۔سب کچھ میں نے تجھے عطا کیا تو نے میری ہر بات کا انکار کر دیا اور آج وہ نیکی تجھے یاد آرہی