خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 332
خطبات طاہر جلد۵ 332 خطبه جمعه ۹ رمئی ۱۹۸۶ء مجھ پر ایمان بھی لائے۔لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ تا کہ وہ ہدایت پائیں۔بعض دفعہ جواب دراصل شرط کے معنی رکھتا ہے۔فَلْيَسْتَجِيبُوا لِى بظاہر نتیجہ ہے کہ چونکہ میں دعاسنتا ہوں اس لئے وہ بھی میری بات سنیں۔لیکن یہ خود شرط کے معنوں میں بھی استعمال ہوسکتا ہے اور یہ بھی ایک طرز کلام ہے۔یعنی ترجمہ تو یہ ہوگا کہ میں دعا قبول کرتا ہوں بلکہ ہمیشہ قریب رہتا ہوں، کوئی ایسی حالت مجھ پر نہیں آتی کہ میں بندے سے دور ہوں اور اسے یہ خطرہ ہو کہ میری آواز اس تک نہیں پہنچے گی اور پیشتر اس کے کہ میری آواز اس تک پہنچ سکے میں ہلاک ہو جاؤں گا۔فرمایا صرف جواب ہی نہیں دیتا ، دعا ہی قبول نہیں کرتا بلکہ ساتھ ساتھ رہتا ہوں۔اس لئے کوئی ایک لمحہ بھی کسی انسان کے لئے وہم کا نہیں آسکتا کہ میں دعا کروں اور قبول بھی ہو لیکن پہنچنے میں دیر ہو جائے گی یا جواب آنے میں دیر ہو جائے گی۔پس نتیجہ یہ نکالا گیا ہے فَلْيَسْتَجِوانِى فَلْيَسْتَجِبْوَالِی کا مطلب ہے مگر شرط یہ ہے کہ تم میری باتوں کوسنو اور میری باتوں کا جواب دو اگر تم جواب نہیں دیتے ، میں تمہیں پکارتا ہوں اور تم لبیک نہیں کہتے ، میں تمہیں ہدایت کے رستوں پر چلنے کا حکم دیتا ہوں اور تم منہ پھیر کر دوسری طرف چلے جاتے ہو تو مجھ سے کیا توقع رکھتے ہو کہ جب تمہیں ضرورت پڑے تو پھر میں جواب دوں۔اللہ اور بندے کی جو نسبت ہے وہ تو بیان میں نہیں آسکتی یعنی زمین اور آسمان کی نسبت کہا جاتا ہے مگر بندے اور خدا کے درمیان ایک ایسی بعید کی نسبت ہے جولفظوں میں یا اعداد میں بیان نہیں کی جاسکتی لیکن مثال کے طور پر انسانی زبان میں ، انسانوں کو سمجھانے کی خاطر بعض دفعہ انسانی محاورے استعمال کئے جاتے ہیں۔پس یہ جو مضمون بیان ہوا ہے اس کی صورت کچھ اس قسم کی ہے کہ نو کر تو مالک کا جواب نہ دے۔غلام تو مالک کی باتیں سنے اور ان سنی کر دے اور اس کا کوئی حکم نہ مانے اور جب مالک کی نوکر کو ضرورت پڑے تو وہ یہ توقع رکھے کہ میری ایک ہی آواز پر وہ دوڑتا ہوا چلا آئے گا۔اگر یہ ممکن ہے، اگر یہ صورت حال قابل قبول ہے تو پھر ایسے دعا کرنے والے بے شک خدا سے جو چاہیں تو قعات رکھیں۔لیکن بندے کا سلوک یہ بتائے گا کہ کس حد تک دعا مستجاب ہونی ہے اور بندے کا قرب یہ بتائے گا کہ کس حد تک اُس کے خدا قریب ہے۔یہ دو پہلو اگر اچھی طرح سمجھ لئے جائیں تو مضمون مکمل ہو جاتا ہے۔پھر انسان مکمل طور پر ہدایت پا جاتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو بہت ہی تفصیل کے ساتھ دعا کے مضمون پر روشنی ڈالی ہے اُس میں ان