خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 323 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 323

خطبات طاہر جلد ۵ 323 خطبه جمعه ۲ رمئی ۱۹۸۶ء اول سادہ لوح انسان تو پہچان نہیں سکتے یہ کیوں ایسی حرکت کر رہے ہیں۔اُن کو یہ نظر آتا ہے کہ ہاں غلطی درست ہے۔اب حاسد کے لئے ضروری نہیں کہ جھوٹ بھی ساتھ بولے۔بعض حاسد ایسے ہوتے ہیں جو جھوٹ نہیں بولتے ، واقعات بیان کرتے ہیں لیکن واقعات کا بیان دنیا کے لئے جماعت کے لئے شدید نقصان کو موجب بن رہا ہوتا ہے۔نفرتوں کی آگ پھیلا رہے ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ نیکیوں سے اُن کی نظریں ہٹا رہے ہوتے ہیں۔ایک شخص کی نیکیاں قابل قبول ہیں اس کے بجائے اُس کی برائی کو نمایاں کر کے دکھاتے ہیں اور پھر عدم اعتماد پھیلا دیتے ہیں جماعت میں۔لوگ کہتے ہیں اچھا جی! یہ عہدہ دار اس طرح کے ہیں تو باقی کیوں نہ اس طرح کریں۔تو حسد کی آگ مخفی آگ کی طرح اندر ہی اندر پھیلتی ہے اور نیکی کو کھاتی چلی جاتی ہے۔سوسائٹی کے اعتماد کو نقصان پہنچا رہی ہوتی ہے اور بظاہر نیکی کے نام پر حسد چل رہا ہوتا ہے۔شریکا جس کو پنچاب میں کہتے ہیں۔یہ سارا حسد کی بناء پر ہے۔پوری سوسائٹی متاثر ہے اس سے، بڑے بڑے فساد ہوتے ہیں، بہت بڑی بڑی لڑائیاں ہو جاتی ہیں۔خاندانی ناچاقیاں رشتے کٹ جاتے ہیں اور محض ” شریکے کی وجہ سے اور اس شریکے کو بجائے اسکے کہ ہمارے معاشرہ میں برا سمجھا جائے فخر کا موجب بنا لیا گیا ہے۔چنانچہ بعض زمیندار مجھے بتاتے رہیں ہیں کہ ہم جب جاتے ہیں شادیوں پر تو ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ جس شریکے کے ہاں شادی ہو رہی ہوتی ہے اپنے گھر کے بچے یا بچی کی ، کہتے ہیں پوری کوشش ہوتی ہے کہ ان کا کھا ناختم ہو جائے ، چاہے الٹیاں کرنی پڑیں بعد میں، حکیموں کے پاس جانا پڑے، علاج کروانا پڑے، معدے تباہ ہو جائیں لیکن پورا زور لگاتے ہیں کہ اتنا کھاؤ کہ اُن کے اندازے ناکام ہو جائیں اور کھا ناختم ہو جائے اور ہم کہیں کہ تمہاری ناک کٹ گئی۔ایسی جاہلانہ حرکتیں ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے کھول دیا مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ حق جاننے کے باوجود حسد حملہ کر دیتا ہے۔حسد ایسی جہالت ہے کہ دکھاتا ہے کہ تمہارا نقصان ہے اس میں اور اس کے باوجود حسد غلط اقدام پر مجبور کر رہا ہوتا ہے۔بعض دفعہ حسد ایسے حیرت انگیز لباس پہن کر آتا ہے کہ عام نظر اس کو محسوس بھی نہیں کر سکتی۔ایک ساس بہو سے حسد کر رہی ہوتی ہے اس لئے کہ اُس کا بیٹا اپنی ماں کے پیار میں اپنی بیوی کو شریک کر رہا ہوتا ہے۔اب بظاہر تو کوئی وجہ نہیں ماں کا پیار اور نوعیت کا ہے، اُس کی پاکیزگی اور چیز ہے،