خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 309
خطبات طاہر جلد۵ 309 خطبه جمعه ۲۵ / اپریل ۱۹۸۶ء مومن خوش ہو سکے۔ان میں کیا ادائیں ہیں خدا کی جماعتوں کی ادائیں تو نہیں ہیں۔یہ وہ ادا ئیں تو نہیں ہیں جو انبیا ء اپنے ماننے والوں میں پیدا کیا کرتے ہیں کہ سارے ملک کو گندگی سے بھر دو، خواہ دشمن کے خلاف ہی ہو۔غلیظ زبان استعمال کرو، ماؤں بہنوں کی عزت کا کوئی احساس نہ کرو، جو معصوم ہیں ان کو بھی اپنے غضب کی چکی میں پیتے چلے جاؤ۔یہ تو کوئی طریق نہیں ہے جو قرآن اور سنت ہمیں سکھاتے ہیں یا جو انبیاء کی سنت ہمیشہ سے چلی آئی ہے۔اس لئے فرمایا کہ یہ جوز مین تم دیکھ رہے ہو اس زمین پر انقلاب برپا ہونے والا ہے، اس زمین کو تبدیل کرنا پڑے گا اور اس زمین کو تبدیل ہونا پڑے گا اور اس تبدیلی کی ساری ذمہ داری مومنوں پر عائد ہوتی ہے اور ان کے آسمان کو بھی بدلنا ہوگا کیونکہ ان کی روحانی حالت بھی خراب ہو چکی ہے۔ان کی دنیاوی حالت بھی خراب ہو چکی ہے۔ایک ایسی قوم جو بار بار ایسے ابتلاؤں کے دور سے گزرتی اور سنبھلنے کے بجائے ہر دفعہ پہلے سے زیادہ خراب حالت میں اپنے آپ کو پائے ، جس کے اخلاق کا دیوالیہ پن جس کے ساتھ دنیا کے ہر قسم کے مظالم توڑے جارہے ہوں اور اس کو پتہ نہ ہو کہ میرے ساتھ ہو کیا رہا ہے، ان کی زمین بھی بدلانی ہوگی اور ان کے آسمان بھی بدلانے ہوں گے اور اس تبدیلی میں جماعت احمد یہ کوسب سے زیادہ اہم کردارادا کرنا ہے۔زمین کے لحاظ سے ان لوگوں کو دیکھیں تو پاکستان کے عوام کتنے مظلوم ہیں۔کتنی دفعہ یہ کہانی دہرائی گئی ہے کہ ملک کی اپنی فوج نے غیر قوموں سے بچانے کی بجائے خود اپنے ملک پر قبضہ کر لیا۔اب بظاہر یہ کتنی بے وقوفوں والی بات نظر آتی ہے، سمجھ میں آنی والی بات ہی نہیں ہے کہ چوکیدار رکھے تھے کہ ڈاکوؤں سے بچاؤ اور وہ اپنے گھر کے مالک بن کے بیٹھ گئے اور ساری دولت پر قابض ہو گئے اور گھر کے مکینوں کو غلام بنا لیا۔یہ ایک دفعہ نہیں ہوا دو دفعہ نہیں ہوا کئی دفعہ ہو چکا ہے اور دھمکی دی جا رہی ہے کہ اگر پھر تم لوگ باز نہیں آئے اپنا حق مانگنے سے تو پھر یہی کر سکتے ہیں ہم۔اس لئے خاموشی اختیار کرو۔ایسی قوم ہر دفعہ جب اس قبضہ سے نکلنے کی کوشش کرتی ہے تو گندی گالیوں کے ذریعہ نکلنے کی کوشش کرتی ہے اور اس کے مقابل پر خون ناحق کے ذریعہ ان کی تحریکات کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔بہت سے عوام گالیاں دیتے شور مچاتے ، چھاتیاں پیٹتے ، بعض گورنمنٹ کے اداروں کو آگ لگاتے ہوئے ، بعض کھلم کھلا گولیوں کے منہ میں چھلانگیں مارتے ہوئے اپنے غیظ وغضب کا اظہار کر