خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 308
خطبات طاہر جلد۵ 308 خطبه جمعه ۲۵ اپریل ۱۹۸۶ء میں نے بار بار مختلف رنگ میں سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ ایسے موقع پر ہمیں تھر دلی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے ، پست ہمتی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ہم لوگ بلند باتوں کے لئے ، اونچی چیزوں کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ہمارے حوصلے وسیع ہونے چاہئیں۔گالیوں اور ذلتوں پر خوش ہونا تو خود کمینے لوگوں کا کام ہے۔ہمارے لئے عبرت کا مقام ہے اور خوش ہونا اور کسی کے دکھ پر ناچنا اور شادیانے بجانے اس چیز میں اور عبرت میں بہت بڑا فرق ہے۔چنانچہ قرآن کریم بار بار یہ توجہ دلاتا ہے فَاعْتَبِرُوا يَأُولِي الْأَبْصَارِ (الحشر :٣) يه نہیں فرمایا کہ خوشی سے اچھلو اور کو دو۔فرمایا کہ عبرت حاصل کرو يأولِي الْأَبْصَارِ۔اگر تم راہ حق سے ہٹو گے تو تمہارے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔اگر تم اپنی حیثیتوں کو بھول جاؤ گے یا تمہاری آئندہ آنے والی نسلیں اس قسم کی غلطیاں کریں گی تو ان کے ساتھ بھی خدا کی تقدیر یہی سلوک کرے گی۔اس لئے استغفار سے کام لو اور عبرت حاصل کرو، اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہو۔ان باتوں کو اختیار کرو جوخدا کو پسندیدہ ہیں اور ان باتوں سے بچو جو خدا کے غضب کو کھینچنے والی باتیں بن جایا کرتی ہیں۔تو جماعت احمدیہ کو اس دور سے گزرتے ہوئے ان اداؤں کے ساتھ یہ رستہ طے کرنا چاہئے جو أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحہ ) کے گروہ کی ادائیں ہیں ، جن کو قرآن کریم نے خوب کھول کر بیان فرمایا ہے۔زیادہ استغفار سے کام لیں ، زیادہ منکسر مزاجی سے کام لیں ، زیادہ خدا کی طرف متوجہ ہوں اور ان ذمہ داریوں کی طرف بھی متوجہ ہوں جو ایسے ادوار کے بعد الہی جماعتوں پر پڑا کرتی ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے اس کے معابعد یہ فرمایا يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّموتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ کہ اس دن یا اس دور میں تُبَدَّلُ الْأَرْضُ زمین تبدیل کر دی جائے گی وَ السَّموات اور آسمان بھی تبدیل کر دیئے جائیں گے۔وَبَرَزُوا لِلهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ اور خدائے واحد و قہار کی طرف یہ نکل کھڑے ہوں گے یعنی جوق در جوق لوگ اللہ کی طرف ،خدائے واحد و یگانہ کی طرف رخ کریں گے۔اس مضمون سے اس کا کیا تعلق ہے؟ دراصل اگر آپ اس کو موجودہ واقعات پر چسپاں کر کے دیکھیں تو پھر آپ کو سمجھ آئے گی۔جس قسم کے واقعات پاکستان کی سرزمین پر ہو رہے ہیں یہ تو ایسی زمین نہیں ہے جس پر