خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 301 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 301

خطبات طاہر جلد۵ 301 خطبه جمعه ۱۸ راپریل ۱۹۸۶ء وفات کی۔۴۔مکرم ملک محمد عبد اللہ خان صاحب یہ ریلوے میں ملازم تھے ان کے متعلق ان کے بیٹے نعیم احمد ملک نے اطلاع دی ہے کہ ان کی وفات ہو گئی ہے۔۵۔چوہدری نصر اللہ خان صاحب جو چوہدری ظفر اللہ خان امیر جماعت ضلع گوجرانوالہ کے بھائی کینیڈا میں ہیں ان کا بیٹا اختر بڑے ظالمانہ طریقے سے قتل کر دیا گیا ہے۔آج کل یہاں کینیڈا میں خاص طور پر برٹش کولمبیا میں معلوم ہوتا ہے کوئی پاگل گروہ ہے جو لوگوں کو پکڑ کر بغیر کسی وجہ کے اور بظاہر بغیر کسی لالچ کے قتل کر دیتا ہے اور ان کی اطلاع کے مطابق وہاں سے پندرہ سو ایسے واقعات ہو چکے ہیں جن کی موت کے معمے پولیس حل نہیں کرسکی اور کچھ سمجھ نہیں آتی کہ یہ کون لوگ ہیں کیوں قتل کرتے ہیں۔اس سے پہلے ایک دفعہ کیلی فورنیا میں شروع ہوا تھا تو پتہ چلا کہ Black Muslims کی ایک Organization ہے جن کے علماء ان کو بتاتے ہیں کہ جو بھی کسی شخص کو جو کافر ہے مارے تو وہ سیدھا جنت میں چلا جائے گا اور اس کے نتیجہ میں وہاں قتل ہور ہے تھے۔اب یہ پتہ نہیں کہ اس قتل کا تعلق کسی ایسے ہی گروہ سے ہے یا ویسے کوئی سر پھرے لوگ ہیں۔بہر حال یہ ان کا بیٹا بھی بے چارہ بڑا مخلص تھا اور 1974 ء میں اس نے گوجرانوالہ میں بڑی بہادری کے ساتھ جماعت کی خدمت سرانجام دی تھی۔اس کو تو پہلے ان کے سر پر وار کر کے پتھروں سے کوٹ کر مار اور پھر دریا میں ڈبو دیا۔اسے رسوں سے باندھ کر کسی بھاری چیز کے ساتھ لیکن یہ بات کے پولیس کے بیان کے مطابق دو مہینے تک لاش پانی میں ڈوبی رہی ہے لیکن جب با ہر نکلی ہے تو بالکل اسی طرح تھی جس طرح کوئی صحت مند آدمی آرام سے سویا پڑا ہو کوئی بھی خرابی کے آثار نہیں تھے۔ان کے والدین کے لئے کچھ تسلی کی بات بس اتنی سی ہے ورنہ بے چارے بہت ہی تکلیف میں تھے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو رحمت کا نشان اس میں دکھائی دیا کہ بچے کی لاش بگڑی نہیں۔آخری جنازہ بیٹی پونتو صاحب انڈونیشیا کا ہے۔سلسلہ کے قدیم خدمت کرنے والے مختلف بڑے عہدوں پر فائز رہے اور ہر حالت میں ہمیشہ انکساری سے دین کی خدمت کی ہے۔بہت ہی نیک طبیعت انسان۔ان کا سارا خاندان ہی اخلاس میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ان کے متعلق بھی چند روز ہوئے اطلاع ملی ہے کہ دماغ کی رگ پھٹنے سے کچھ دن بیمار رہ کر اچانک وفات پاگئے۔مکرم صدر دین صاحب کے جنازہ کے ساتھ ان سب کی نماز جنازہ ہائے غائب ہوگی۔