خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 288
288 خطبه جمعه ۱۸ راپریل ۱۹۸۶ء خطبات طاہر جلد۵ کا قدم ہے انہیں اللہ کی نظر میں سچائی کا قدم عطا فرمایا گیا ہے۔قَالَ الْكَفِرُونَ إِنَّ هَذَا لَسْحِرٌ مُّبِین کا فر یہ بات سن کر کہتے ہیں۔اِنَّ هَذَا لَسْحِرٌ مُّبِينٌ یہ تو یقیناً ایک بہت بڑا کھلا کھلا جادوگر ہے۔اس آیت پر غور کرنے سے جس میں ایک تعجب کا اظہار بھی پایا جاتا ہے۔انسان خود ایک قسم کے تعجب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔آكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا میں ایک تو وہ تعجب ہے جو کافروں کو اس واقعہ پر ہوا اور ایک اس طرز کلام میں ان پر تعجب ہے کہ تم پر تعجب ہے، تمہاری عجیب حالت ہے اس بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ یہ کیسا واقعہ ہو گیا ہے لیکن اس کے علاوہ ایک اور تعجب کی بات یہ ہے کہ جہاں تک مضمون کا تعلق ہے بظاہر اس مضمون کا جادو سے کوئی تعلق نہیں۔مثلاً کسی انسان کا یہ کہنا کہ تم لوگوں کو میں ڈراتا ہوں تو ہلاکت سے ان بدیوں کے نتیجے میں جو تم میں پیدا ہو چکی ہیں اور وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہیں اُن کو خوش خبری دیتا ہوں کہ اُن کا قدم اُن کے رب کے نزدیک سچائی کا قدم ہے۔اس اعلان کا جادو سے کیا تعلق ہے؟ اس کے نتیجے میں اُن کا حیرت میں مبتلا ہو جانا اور یہ اعلان کرنا کہ اِنَّ هَذَا لَسحِرٌ مُّبِينٌ یہ اعلان کرنے والا تو بہت ہی بڑا گھلا کھلا جادوگر ہے۔جب اس مضمون پر ہم غور کرتے ہیں تو بہت ہی لطیف اور حکیمانہ مضمون نگاہ کے سامنے اُبھرتا ہے اور ساتھ ہی دل بے اختیار یہ گواہی دیتا ہے کہ یقینا یہ کتاب حکیم ہی کی آیات ہیں بہت بڑی گہری حکمت والی کتاب کا مضمون ہے۔سب سے بڑا تعجب تو یہ تھا کہ رَجُلٍ مِنْهُمْ ایک شخص جو ان لوگوں میں سے تھا اسے اللہ نے وحی کے لئے چن لیا ہے۔وہ سوسائٹی جس میں انبیاء تشریف لاتے ہیں وہ تو فساد کا گڑھ بن چکی ہوتی ہے۔جھوٹ اس میں اس طرح پنپتا ہے جیسے شاداب زمینوں میں سبزیاں پنپتی ہیں۔ہر طرف گندگی، فساد، جھوٹ ، دغا بازی، دجل اس کی نشو و نما ہو رہی ہوتی ہے۔اس زمین سے ایک کلمہ طیبہ کا نکل آنا، ایسی روئیدگی کا نمودار ہونا جو آسمانی روئیدگی ہو یہ تو واقعی بڑے تعجب کی بات ہے۔تو پہلا تعجب تو یہ ہے کہ اَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِّنْهُمْ ان جیسے لوگوں میں سے خدا نے وحی کے لئے ایک بندہ کو چن لیا اور پھر ایسا چنا کہ جو ان جیسے لوگوں میں ویسی ہی تبدیلیاں پیدا کر رہا ہے جیسی اس کے اندر خدا کا ہاتھ لگنے کے نتیجے میں لوگ دیکھ رہے ہیں۔یہ ہے وہ کھلا کھلا جادو جس کی وجہ سے ان کی