خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 287
خطبات طاہر جلد۵ 287 خطبه جمعه ۱۸ر ایریل ۱۹۸۶ء قَدَمَ صِدْقٍ کی تفسیر ہمیشہ صدق پر قدم ماریں خطبه جمعه فرموده ۱/۱۸اپریل ۱۹۸۶ء بمقام بیت الفضل لندن) محب تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الرُ تِلْكَ أَيْتُ الْكِتَبِ الْحَكِيمِ أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَفِرُونَ إِنَّ هَذَا لَسْحِرٌ مُّبِينٌ (يونس: ١-٣) اور پھر فرمایا: بسم اللہ کے علاوہ جو دو آیات ہیں ان کا مطلب یہ ہے، انسر میں ہوں اللہ خوب دیکھنے والا۔تِلْكَ أَيْتُ الكِتبِ الْحَكِيمِ یہ آیات ایک بہت ہی حکمت والی کتاب کی آیات ہیں۔کیا لوگوں نے اس بات پر تعجب کیا ہے، کیا لوگوں کے لئے یہ بات باعث تعجب ہے کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص پر وحی کرنی شروع کر دی، ایک شحض کو اپنی وحی کے لئے چن لیا اور تھا وہ اس سے پہلے انہی میں سے۔کس مقصد کے لئے اُسے وحی کی خاطر چنا گیا ، وحی میں کیا کہا گیا ہے اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَرَ بِهِمْ کہ لوگوں کو تو ڈراؤ مگر اُن میں سے وہ لوگ جو ایمان لے آئیں اُن کو خوشخبری دو کہ اُن کا قدم اُن کے خدا کے نزدیک صدق