خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 275
خطبات طاہر جلد۵ 275 خطبہ جمعہ ا اراپریل ۱۹۸۶ء استغفار کا مضمون یہ بتاتا ہے کہ ہم اس کے باوجود کہ تیری تد بیر غلطیوں سے پاک تھی اس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہم نے غلطیاں کیں۔جو نقشے تو نے بنائے تھے اسلام کی فتح کے ان کی اینٹیں رکھنے والے معمار تو ہم تھے مگر ہم نے اینٹیں غلط رکھیں، بار بار نقشے کی خلاف ورزی کی ، بار بار ایسے رخ پر غلطی سے اینٹیں رکھ دیں کہ جس کے نتیجہ میں اس عمارت میں رخنے پیدا ہو سکتے تھے اس لئے ہم استغفار کرتے ہیں۔تو ہمیں بخش، ہم اس فتح کے لائق نہیں، ہماری غلطیوں کے باوجود عطا ہونے والی فتح ہے۔تو دیکھئے کتنا مختلف رخ ہے اور کتنا مختلف مزاج ہے، کتنے مختلف تقاضے ہیں فتح مند فوجوں کے ساتھ وابستہ۔پس جماعت کو دینی فتح کو دنیا کی فتح کے ساتھ باہم دیگر اس طرح ملا نہیں دینا چاہئے کہ اشتباہ پیدا ہو جائے کہ گویا دین کی فتح اور دنیا کی فتح ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ بعض اسلامی مؤرخین نے یہ غلطی کر کے اسلام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔جب مسلمان بادشاہوں نے بعض دیگر ممالک کو فتح کیا وہ ان کی سیاسی فتوحات تھیں۔وہاں يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ اَفَوَاجًا کا کوئی نقشہ آپ کو نظر نہیں آئے گا۔اس کے برعکس وہ ایک سیاسی غلبہ تھا جہاں تلواروں کے زور سے اور تیر و تفنگ کے زور سے بعض فوجیں بعض دوسرے ملکوں میں داخل ہو رہی تھیں۔وہاں بحث یہ تو اٹھائی جاسکتی ہے کہ سیاسی اقدار کے لحاظ سے، سیاسی اخلاقی تقاضوں کے اعتبار سے کسی ایک ملک کو کسی دوسرے ملک کے خلاف فوج کشی کا حق تھا کہ نہیں تھا۔یہ تو جائز ہے لیکن ان سب جنگوں کو اسلامی جہاد کا نام قرار دینا اور ان سب فتوحات کو اسلامی فتوحات قرار دینا یہ درست نہیں ہے۔دراصل اس زمانے میں جو فاتح اسلام تھے وہ تو بزرگ اور اولیاء اور فقیرا اور درویش تھے جو قطع نظر اس سے کہ سیاسی حالات کیا ہیں۔دن رات اسلام کی خدمت میں مصروف تھے۔ہندوستان کی تاریخ پر ہی نظر ڈال کر دیکھ لیں تو ہندوستان کا مسلمان فاتح تو بابر کو قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اسلامی فاتح قرار نہیں دیا جا سکتا۔اسلامی فاتح کا نام پانے والے بزرگ تو نظام الدین اولیاء جیسے بزرگ تھے اور ایسے بے شمار لوگ جو دھونی رما کر بیٹھ گئے اور یہ عہد لے کے اپنی ساری زندگی اس عہد کی ایفاء میں صرف کر دی کہ ہم ان جاہلوں کو ، ان اندھیروں میں بسنے والوں کو خدا کی طرف سے علم اور عرفان عطا