خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 274
خطبات طاہر جلد۵ 274 خطبہ جمعہا اراپریل ۱۹۸۶ء دوسروں کی زمینوں کا سر کرنا ، ان کے ملکوں میں گھس کر ان کی زمینوں کو تہ و بالا کرنا اور فوج در فوج دوسرے ممالک پر قبضہ کر لینا۔قرآن کریم جس فتح کا ذکر فرما رہا ہے اس کا رخ دیکھیں کتنا مختلف ہے۔فرماتا ہے يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا کہ جس فتح کی ہم بات کرتے ہیں اس میں دشمن جوق در جوق اور فوج در فوج تمہاری یعنی اسلام کی سرزمین میں داخل ہوگا۔اس میں بہت سے لطیف اشارے ملتے ہیں جن میں سے بعض کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں اور ایک خصوصیت کے ساتھ آج بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اس سورۃ میں جبر کی کلیہ نفی کر دی گئی ہے۔يَدْخُلُونَ فِی دِینِ اللهِ اَفَوَاجًا میں ایک تو رخ مختلف ، یہ نہیں فرمایا کہ اسلامی فوجیں دندناتی ہوئی غیروں کی سرزمینیں فتح کر رہی ہوں گی بلکہ فرمایا دشمن کی فوجیں جوق در جوق اور فوج در فوج اسلام کی سر زمین میں داخل ہو رہی ہوں گی اور فوج کشی غیر کی طرف سے اسلام کی طرف ہے اور اسلام کی طرف سے جبراً ان کو گھسیٹ کر لانے کا کوئی تصور ہی اس میں نظر نہیں آتا۔ولَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرہ:۲۵۷) میں جس آزادی مذہب اور آزادی ضمیر کا اعلان کیا گیا تھا اس کی عملی تصویر نہایت ہی حسین رنگ میں قرآن کریم نے اس چھوٹی سی سورۃ میں کھینچ دی اور فتح کے شادیانے کیسے بجائے جاتے ہیں کس طرح بیانگ دھل اعلان کئے جاتے ہیں کہ آخر ہم فتح یاب ہوئے ، اس کے متعلق فرماتا ہے: إذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًان فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبَّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا کہ جب تم یہ عظیم الشان فتح دیکھ تو اس فتح کے شادیانے اور نقارے اس طرح بجاؤ کہ تمہارے ہونٹوں پر خدا کی تسبیح ہو اور تحمید ہو اور بار بار استغفار کر رہے ہو، یہ کہتے ہوئے کہ اے خدا ہم تو اس لائق نہیں تھے کہ جو تو نے ہمیں عطا کیا ، ہماری ذاتی کوششوں سے ہمیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوا، جو کچھ ہوا تیری عطا ہے۔یہی نہیں بلکہ ہماری غلطیوں کے باوجود ہمیں عطا کیا گیا ہے کیونکہ تسبیح کا مضمون یہ بتاتا ہے کہ جو کچھ ہے تیری ہی طرف سے ہے اور تو ہی ہے جو غلطیوں سے پاک ہے، تو ہی ہے جس کی تدبیر کامل ہے اور اس میں کوئی رخنہ نہیں اور تیری ہی تدبیر کے ذریعہ فتح حاصل ہوئی اور