خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 268 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 268

خطبات طاہر جلد۵ 268 خطبه جمعه ۴ را پریل ۱۹۸۶ء نے اپنی نوکر کے لئے کچھ کپڑے سلوائے۔اس بے چاری کو یہ پتہ نہیں تھا کہ میرے لئے سلوائے گئے ہیں۔وہ چوری کر کے لے گئی اور کسی اور چوری میں وہ پکڑی گئی تو وہ کپڑے بھی بیچ میں سے نکل آئے کیسی بیوقوفوں والی بات ہے۔لیکن اس عورت کی بیوقوفی تو نا کبھی میں ہوئی تھی اس کو تو پتہ نہیں تھا کہ یہ کپڑے بغیر چوری کے بھی میرے لئے حلال تھے ، مجھے ہی ملنے تھے مگر وہ ڈاکٹر جو وقف کرتا ہے اپنی زندگی کو اس کو تو پتہ ہے کہ اگر میں وقف نہ کروں تو یہی کمائی میرے لئے حلال ہے میں اپنے چندے دوں میں جماعت کی خدمات اور طریقوں سے کروں، اپنا بھی گھر بھروں اور دوسروں کے بھی گھر بھروں اور بشاشت محسوس کروں۔ایسا ڈاکٹر اس نوکر سے بہت زیادہ بے وقوف ہے۔جو یہ دیکھنے کے با وجود که حلال رستہ موجود ہے پھر حرام کو اختیار کرتا ہے۔نہ اس کے وقف کی کوئی قیمت رہتی ہے اور نہ اس کے روپے کی کوئی قیمت رہتی ہے۔ساری کمائی اس کی گندی ہو جاتی ہے۔تو سوائے اس کے میں اور کوئی مشورہ نہیں دے سکتا کہ ایسے لوگوں کو ہسپتالوں کو چھوڑ دینا چاہئے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو اس سے بہتر ڈاکٹر مہیا کر دے گا۔یہ ناممکن ہے کہ سلسلے کے کام رک جائیں۔ایک بات جس کی خدا نے ضمانت دے رکھی ہے وہ یہی ہے کہ سلسلہ کے کام ہمیشہ جاری رہیں گے اور برکتوں کے ساتھ جاری رہیں گے۔اس لئے چند ڈاکٹر جن کے دل گندے ہو چکے ہیں ان کے بدلے خدا اگر ان سے زیادہ پاک ڈاکٹر مہیا کر دے تو سلسلہ کے لئے یہ کیسے نقصان کا سودا ہوسکتا ہے۔اس لئے یا تو وہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں فوری۔ورنہ محاسبہ کے وقت پھر ان کو جماعت سے بھی خارج کرنا پڑے گا اور ان کے اوپر جو سرزنش خدا نے مقرر فرمائی ہے وہ ان کے اوپر جاری کرنی پڑے گی۔لیکن نہ بھی پکڑے جائیں تو بڑی ہی بیوقوفی کا سودا کر رہے ہیں جو حلال کمائی کے امکانات رکھتے ہوئے بھی بے وجہ حرام کمائی میں منہ مار رہے ہیں اور اپنے ہاتھوں کی حلال کمائی کو اپنے ہاتھوں سے حرام بنا بنا کر کھا رہے ہیں۔میں تو سوچ بھی نہیں سکتا اتنی بڑی حماقت کیسے کر سکتا ہے ایک باشعور انسان لیکن کرنے والے کر بھی جاتے ہیں۔اس لئے جماعت خواہ دینے والی ہو یا خرچ کرنے والی ہو دونوں پہلوؤں سے ہمیں تقویٰ کے معیار کو بہت بلند کرنا چاہئے کیونکہ اصل زاد راہ ہمارا تقویٰ ہی ہے۔تقویٰ رہے گا تو انشاء اللہ دینے والوں کے اموال میں بھی بہت برکت ہوگی اور جو خرچ کے ذمہ دار بنائے گئے ہیں ان کے اموال