خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 264 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 264

خطبات طاہر جلد ۵ 264 خطبه جمعه ۴ را پریل ۱۹۸۶ء اگر اس کو یہ سہولت ہو کہ جماعت کے خرچ پر جبکہ کوئی نہیں دیکھ رہا جتنا چاہے فون کر لے اور ہرلمحہ جو گزرتا ہے اس کا فون پر اس کا دل اتنا نہ کٹ رہا ہو کہ جماعت کا اتنا خرچ ہو رہا ہے تو یہاں اس کو میں کہتا ہوں وہ بے احتیاطی جو بددیانتی پر منتج ہو جاتی ہے۔خواہ انسان واضح طور پر اس بات کو سوچے یا نہ سوچے لیکن بہترین حل اس کا یہ ہے کہ ہر وہ خرچ جو اپنے طور پر وہ کر سکتا ہے اگر اس خرچ کے وقت اس کو تکلیف ہوتی ہے اور جماعت کے اسی قسم کے خرچ پر تکلیف نہیں ہوتی تو ایسا شخص تقویٰ کے معیار سے گرا ہوا ہے۔بجلیاں جل رہی ہیں تو جلتی چلی جارہی ہیں، پرواہ ہی کوئی نہیں اور بے شمار خرچ اس کی وجہ سے ہو جاتا ہے۔سردی کے موسم میں گرمی کی ضرورت پڑتی ہے، گیس جل رہی ہے اور بعض دفعہ ضرورت سے زیادہ جل رہی ہے، کھڑکیاں بھی کھلی ہیں تب بھی کوئی پرواہ نہیں۔ان چیزوں کو آپ بے احتیاطیاں کہیں گے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ یہ بے احتیاطیاں بے دردی کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں اور بے دردی اور بے حسی اور تقویٰ اکٹھے نہیں رہا کرتے۔ایسی بے در د دی اور ایسی بے حسی جو فرق کر کے دکھائے۔جماعت کے خرچ میں تو موجود ہو اور ذاتی خرچ میں موجود نہ ہو وہ تقویٰ کے خلاف ہے اور یہ صورت حال بالآخر بددیانتی پر منتج ہو جاتی ہے۔اسی لئے اب ہم نے آڈٹ کے انتظام کو زیادہ منظم کیا ہے اور بہت زور دیا جارہا ہے کہ ہر جگہ آزاد آڈیٹر یعنی حساب کرنے والے جو جماعتی نظام سے بالکل آزاد ہوں، وہ اپنی رپورٹیں براہ راست مجھے بھجوائیں اور ایک سرسری نظر ڈالنے سے ہی آڈٹ کی رپورٹ پر اندازہ ہو جاتا ہے کہ کس ملک میں کیا ہو رہا ہے۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ایسے مواقع پیش نہیں آنے چاہئیں کہ آڈٹ کے نظام پر اتنا زور دینا پڑے کیونکہ آڈٹ کا نظام حقیقت میں اموال کی صحیح حفاظت یا پوری حفاظت نہیں کر سکتا۔کوئی نگران جو بیرونی ہو وہ کچی اور حقیقی حفاظت اموال کی کر ہی نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ نے تقویٰ کا ایک اندرونی نگران مقرر فرما دیا ہے اور یہ وہ نگران ہے جس کا براہ راست عالم الغیب والشہادہ سے تعلق ہے کیونکہ تقوی خدا کی ذات سے پھوٹتا ہے۔اس کا مستقل رشتہ ہمیشہ کا ایک رابطہ ہے اپنے رب کے ساتھ۔اس لئے اس کو بھی خدا تعالیٰ نے عالم الغیب والشہادۃ کی صفات عطا فرما دی ہیں۔تقویٰ کی آنکھ وہ بھی دیکھ رہی ہوتی ہے جو بیرونی آڈیٹر کو نظر آتا ہے اور وہ بھی دیکھ رہی ہوتی ہے جو بیرونی آڈیٹر کو نظر ہی نہیں آسکتا۔ان باریکیوں تک بھی چلی جاتی ہے جو نیتوں کے پردوں میں چھپی ہوئی ہوتی