خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 257
خطبات طاہر جلد۵ 257 خطبه جمعه ۲۸ / مارچ ۱۹۸۶ء فوری ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے جماعت کو کم از کم چالیس لاکھ رو پیدا کٹھا کرنا چاہئے اور ساتھ یہ بھی آپ کو ضمانت دیتا ہوں کہ ضرورتیں بہر حال پوری ہوں گی۔اول تو مجھے یقین ہے انشاء اللہ کہ جس طرح آج تک ہمیشہ خدا نے سلوک فرمایا ہے۔تنگی کے باوجود ہر قسم کے حالات کی خرابی کے باوجود جماعت مالی قربانی میں ایسا اعلیٰ معیار دکھاتی ہے کہ عقل ورطہ حیرت میں ڈوب جاتی ہے۔یقین نہیں آتا کہ انہی جیبوں میں جن کو بظاہر خالی کر دیا گیا تھا ان سے پھر دوبارہ اللہ تعالیٰ نے یہ خزانے پیدا کر دیئے ہیں۔بہر حال خدا کے کام ہیں وہ تو کرے گا۔اگر بامر مجبوری یہ رقم پوری نہ ہوئی تو تحریک جدید انجمن احمد یہ ربوہ اور صدر انجمن احمد یہ ربوہ باقی ضرورتیں آسانی سے پوری کر دیں گی میں ضامن ہوں انشاء اللہ تعالیٰ۔اس لئے قادیان والے اس کے مطابق اپنے پروگرام بنا ئیں۔اپنی ساری ضروریات معین کریں اور بڑی تیزی کے ساتھ ان کو پورا کرنے کی طرف توجہ کریں۔اللہ تعالیٰ کے فضل۔روپیہ مہیا کر دیا جائے گا۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: ایک اطلاع یہ پیش کرنی تھی کہ احباب جماعت کو علم ہے ساہیوال اور سکھر والے ہمارے مظلوموں کے ساتھ کیا سلوک ہوا ہے کیسا ظالمانہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ان کے متعلق آج صرف اتنا بتانا ہے کہ گزشتہ خطبات میں جو ان کا ذکر ہوا ہے وہ ساری باتیں اور عالمگیر جماعت کے ان کے لئے وہ جذبات ہیں ان تک پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے یہ پیغام دیا ہے کہ سارے احباب جماعت کو ہمارا السلام علیکم پہنچایا جائے اور یقین دلایا جائے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی خوش ہیں اور غیر معمولی سعادت سمجھ رہے ہیں۔اس لئے ہم پر رحم نہ کریں، ہمارے لئے صرف دعائیں کریں اور باہر والوں کو ہماری طرف سے تسلی دیں کہ ہمارا فکر نہ کریں ہم خدا کی تقدیر پر ہم خدا کے فضل سے راضی ہیں۔یہ پیغام تو ٹھیک ہے مگر فکر کیسے نہ کریں۔یہ ایسی چیز نہیں ہے کہ کسی کے کہنے سے کہ فکر نہ کرو فکر ہٹ سکتی ہے۔ان کا یہی کام تھا، ان کو خدا نے یہی سعادت بخشی ہے یہی ان کے شایان شان تھا۔تو پیغام ہمیں مل گیا ہے لیکن ہم اپنے طور پر جو خدا نے توفیق دی ہے ان کے لئے کریں گے اور دعائیں بھی کریں گے۔ساری جماعت کی کے لئے وہ فرض کفایہ پورا کرنے والے لوگ ہیں ،ساری جماعت کی شہادت کی روح کو زندہ کرنے والے لوگ ہیں، اس لئے وہ تو دل سے نہیں اتارے جاسکتے۔