خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 255
خطبات طاہر جلد۵ 255 خطبہ جمعہ ۲۸ / مارچ ۱۹۸۶ء لئے جو دوسری تحریکات کی جاتی ہیں ان میں رد عمل بالکل مردہ سی کیفیت رکھتا ہے۔درویشوں کی ضروریات پوری کرنے کا معیار گر گیا۔وہی صدقہ خیرات ہی ہے۔صدقہ و خیرات بھیج دو۔حالانکہ درولیش تو ہماری سوسائٹی کی روح ہیں۔وہ تو اصحاب الصفہ کی تمثیل ہیں۔ان کے ساتھ یہ معاملہ کہ صرف صدقہ کی رقم وہاں جائے یہ تو بڑا اندھیر ہے، بڑا ظلم کا معاملہ ہے۔اپنے نفس سے ظلم کرنے والی بات ہے۔ان کو تو عزت کے ساتھ پیش کرنا چاہئے تھا جو کچھ بھی پیش کرنا چاہئے تھا۔روپیہ اب جو جماعت کی طرف سے فوری ضروریات میرے سامنے آئی ہیں ان میں کچھ تو مقامات مقدسہ کی مرمتیں ہیں۔اگر وہ تعمیری مرمتیں پوری نہ کی گئیں عمارتوں سے تعلق رکھنے والی مرمتیں تو بہت سی یادگار اور بہت ہی مقدس ایسے کمرے یا گھر ہیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة السلام چلتے پھرتے رہے، جہاں آپ پر الہامات کی بارش ہوئی ، جہاں آپ نے تصنیفات کیں ، جہاں آپ اور ذکر الہی میں مصروف رہے ان کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔بہشتی مقبرہ ہے اس کی حفاظت کے تقاضے ہیں اور کئی قسم کے ہیں۔جو انہوں نے اندازہ لگایا وہ قادیان سے تعلق رکھنے والے اخراجات کا پندرہ لاکھ روپے کا اندازہ تھا اور جو کل سرمایہ انجمن کے ہاتھ میں اس وقت ہر قسم کا اکٹھا کر کے یعنی اس میں صد سالہ جو بلی کا روپیہ بھی شامل ہے وہ دو تین لاکھ سے زیادہ نہیں بنتا اور اس کے علاوہ دلی میں ایک شاندار مرکز جو ہندوستان کی جماعتوں کے شایان شان ہو اور ضرورتیں پوری کر سکے وہاں بنے والا ہے۔کانپور میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ کی طرف رجحان ہے، مخالفت بھی ہے بڑی دیر کے بعد اللہ کے فضل سے وہاں تبلیغ کا غنچہ کھلا ہے اور رونق بنی شروع ہوئی ہے۔نئے احمدیوں کے خطوط آرہے ہیں کہ خدا کے فضل سے ہم قربانی بھی دے رہے ہیں آگے تبلیغ کر رہے ہیں۔مگر مرکز کوئی نہیں کہاں بیٹھیں ، کس جگہ ہم اجتماع کریں اور بھی بہت سی ضرورتیں ہیں ان کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں نے جو اندازہ لگایا تو میرے خیال میں چالیس پچاس لاکھ روپے تک کی ضرورت ہے۔مگر میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان کو واپس اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بیرون ہندوستان عام تحریک نہ کی جائے۔اس لئے اس تحریک کی جو میں کرنے لگا ہوں اس کی دو تین صورتیں ہیں جن کو لحوظ رکھ کر جن لوگوں نے قربانی کرنی ہے وہ قربانی پیش کریں۔