خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 244 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 244

خطبات طاہر جلد۵ 244 خطبه جمعه ۲۸ / مارچ ۱۹۸۶ء حصہ ہے جو مرنے کے بعد بھی اس کے لئے خرچ کیا جاسکتا ہے۔لیکن جو شخص دنیا میں ناد ہند ہو، دنیا میں خدا کے مال کھاتا ہو یا بنی نوع انسان کے مال کھاتا ہو۔اگر وہ مر جاتا ہے تو اس کی امیر و کبیر اولاد کے دل میں اگر یہ و ہم پیدا ہو جائے کہ وہ کروڑوں روپیہ دے کر خدا سے اس کی گردن چھڑا لیں گے یہ محض وہم ہے۔وہ آیات جن کے مضمون کا میں نے ذکر کیا ہے وہ اس کی راہ میں کھڑی ہو جائیں گی۔لا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَةٌ وَ لَا شَفَاعَةٌ کی آواز آئے گی۔نہ دوستی کام آئے گی نہ سودے بازی کام آئے گی ، نہ کسی قسم کی سفارش چلے گی۔پس اس آیت کے مضمون کو اس رنگ میں سمجھنے کے بعد ہمیں اپنے چندوں کو نکھارنے کے لئے دو بہت ہی اہم گرمل گئے۔اول یہ کہ جب ہم خدا کی راہ میں کچھ پیش کریں تو اپنے نفس کو خوب کھنگال کر ، ہر غیر اللہ کے تصور سے پاک کرنے کے بعد خدا کے حضور پیش کریں۔نہ اس میں ریاء کا شائبہ ہونہ اور کسی قسم کی نفس کی ملونی ہو۔کوئی دھوکہ نہ ہو، تقویٰ سے گری ہوئی کسی قسم کی کوئی بات نہ ہو صاف ستھرا کر کے جس طرح مالی اپنا پھل سجا کر منڈی میں لے کر جاتا ہے جس طرح زمیندار بعض دفعہ شلغم دھو دھو کر اس کی سفیدی نکھار کر منڈی میں لے کر جاتا ہے۔اس طرح اپنے اعمال کو خوب نکھار کر اس کا گند دھو کر پھر خدا کے حضور میں مالی قربانی پیش کرو اور وہ جو یہاں مقبول ہو جائے گی وہ وہاں ضرور مقبول رہے گی۔اس کے بدلے یقینا گناہ معاف کئے جائیں گے۔اس کے بدلے یقیناً خدا تعالیٰ کے اور کثرت سے انعامات کی بارش نازل ہوگی لیکن جو قربانی یہاں رد کئے جانے کے لائق ٹھہرائی گئی اس نے آگے نہیں جانا۔جو مردود ہوگئی وہ ہمیشہ کے لئے مردود ہوگئی۔اس لئے وہ لوگ جو خدا کی راہ میں اموال خرچ کرتے ہیں ان کو جہاں یہ ایک عظیم سعادت نصیب ہوتی ہے وہاں ان کے لئے خوف کا بھی بہت مقام ہے۔مال خرچ کرنا کافی نہیں مال کو صاف اور پاک نیتوں کے ساتھ خرچ کرنا ضروری ہے۔رقم کے کوئی معنی نہیں ہیں۔اس کے پیچھے قربانی کی روح کیا تھی ؟ کیا تناسب تھا اس قربانی میں؟ یہ وہ چیز ہے جو خدا کے نزدیک اہمیت رکھتی ہے۔اور پھر اگر ایسی نیکیاں آپ کرتے ہیں جن کی نیکیاں کرتے کرتے حسرت لے کر اس دنیا سے اٹھ جاتے ہیں۔اگر اولا داس نیت سے ان نیکیوں کو جاری رکھے کہ ہمارے والدین کی یہ حسرتیں رہ گئی تھیں تو قیامت تک کے لئے وہ خزانے آپ کے لئے جمع ہوتے رہیں گے اور اس مضمون کی راہ میں کوئی قرآن کریم کی آیت کا مفہوم حائل