خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 236
خطبات طاہر جلد ۵ 236 خطبه جمعه ۲۱ مارچ ۱۹۸۶ء پتہ مل جائے اور یہ ظاہر ہو جائے کہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر راست بازوں کی طرح ایمان لاتا ہے۔ اس لئے کبھی اس کو وہم اور شکوک آکر پریشان دل کرتے ہیں ۔ کبھی کبھی خدا تعالیٰ ہی کی ذات پر اعتراض اور وہم پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ صادق مومن کو اس مقام پر ڈرنا اور گھبرانا نہ چاہئے بلکہ آگے ہی قدم رکھے۔ کسی نے کہا ہے ه عشق اول سرکش و خونی بود تا گریزد هر که بیرونی بود الحکم جلد ۵ نمبر ۶ ۷ ارفروری ۱۹۰۱ء صفحہ:۱) تو دیکھو عشق شروع شروع میں بڑا باغی اور خونی دکھائی دیتا ہے۔اس لئے کہ تا کہ ہر وہ شخص جو کوچہ عشق سے تعلق تک نہیں رکھتا اور اس شہر کا باشندہ نہیں ہے یعنی اس شہر میں بسنے کے لائق نہیں ۔ ایسا بیرونی شخص ان باتوں کو دیکھ کر گریز پا ہو جائے اور بھاگ جائے اس کوچہ سے ،اس لئے یہ دکھاوے کی سرکشی ہے اور دکھاوے کا خون ہے حقیقت میں عشق تو ہر لذت کی آماجگاہ ہے۔ پھر فرماتے ہیں : دو شیطان پلید کا کام ہے کہ وہ راضی نہیں ہوتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی لى الله ذات سے منکر نہ کرالے اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت سے روگردان نہ کر ۔ وہ وساوس پر وساوس ڈالتا رہتا ہے۔ لاکھوں کروڑوں انسان ان میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب کر لیں پھر دیکھا جائے گا۔ باوجود اس کے کہ انسان کو اس بات کا علم نہیں کہ ایک سانس کے بعد دوسرا سانس آئے گا بھی یا نہیں ۔ لیکن شیطان ایسا دلیر کرتا ہے کہ وہ جھوٹی امیدیں دیتا اور سبز باغ دکھاتا دکھاتا ہے ۔ شیطان کا یہ پہلا سبق ہوتا ہے مگر متقی بہادر ہوتا ہے اس کو ایک جرات دی جاتی ہے کہ وہ ہر وسوسہ کا مقابلہ کرتا ہے ۔ اسی لئے وَ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ فرمایا ۔ یعنی اس درجہ میں وہ ہارتے اور تھکتے نہیں اور ابتداء میں انس اور ذوق اور شوق کا نہ ہونا ان کو بے دل نہیں کرتا ۔ وہ اسی بے