خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 231
خطبات طاہر جلد۵ 231 خطبه جمعه ۲۱ / مارچ ۱۹۸۶ء کرنے والا نشان غیر کو مغلوب کرنے والا نشان نمایاں امتیاز پیدا کرنے والا نشان۔اس لئے یہ فکر مت کرو کہ تمہارے اندرونی تبدیلی کے نشان کو غیر نہیں دیکھیں گے۔خدا کی تقدیر باہر بھی نشان ظاہر کرے گی تمہارے اندر بھی نشان پیدا کرے گی اور آفاق میں بھی نشان ظاہر کرے گی جو تمام دنیا کو نظر آئیں گے اور پھر معابعد اصل مضمون کی طرف توجہ پھیر دی کہ محض تماش بینی کے لئے خدا تعالیٰ یہ عظیم الشان ابتلاء جاری نہیں فرمایا کرتا جو اصل مقصد ہے وہ یہ ہے وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيَاتِكُمْ اصل بھلائی ، اصل فائدہ تمہارا اس بات میں ہوگا کہ تمہاری برائیاں دور ہورہی ہوں گی اور خدا تمہاری برائیوں کو دور کرے گا وَيَغْفِرْ لَكُمْ اور پہلے جو برائیاں کر چکے ہو ان سے صرف نظر فرمائے گا اور ان کو بخش دے گا وَ اللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ اللہ تعالیٰ بہت ہی بڑے فضل والا ہے بہت ہی عظیم فضلوں والا ہے۔تو ابتلاء کا نتیجہ اگر صبر اور تقویٰ اختیار کیا جائے تو ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ خدا کی رحمتوں کے نیچے آنے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔اس لئے ابتلاء کے ایسے دور جو ذُو الْفَضْلِ الْعَظیم سے انسان کا تعلق باندھ دیں اس کی رحمتوں اور برکتوں اور رضا کی آنکھ کے نیچے انسان کو لے آئیں وہ یقینا عظیم الشان ابتلاء کہلانے کا مستحق ہوتا ہے۔تقویٰ کیا ہے؟ اس مضمون پر میں نے گزشتہ سے پیوستہ جمعہ میں کچھ کہنا شروع کیا تھا اور خیال تھا کہ اس سلسلہ کو آگے بڑھاؤں گا لیکن پھر درمیان میں ایسی بعض اطلاعیں آئیں کہ وقتی طور پر اس مضمون کو چھوڑنا پڑا۔اب پھر آج میں اسی مضمون کو پکڑتا ہوں اور جہاں چھوڑا تھا وہاں سے لینے کی بجائے از سر نو آغاز سے اس مضمون کو شروع کر رہا ہوں۔جو حصے بیان ہو گئے ہیں وہ دوبارہ نہیں بیان ہوں گے لیکن اس مضمون سے یعنی اموال سے تعلق رکھنے والے بعض پہلوا بھی تشنہ ہیں انشاءاللہ ان پر میں بعد میں روشنی ڈالوں گا۔آنحضرت ﷺ نے تقویٰ کی جو تعریف فرمائی ہے، وہ تعریف فرمانے کا انداز نہایت ہی پیارا اور بالکل عام دنیا کے دستور سے بالکل ہٹ کر ہے۔شروع میں بظا ہر تقویٰ کا کوئی ذکر نظر نہیں آ رہا لیکن مضمون جب اپنے انتہائی مقام کو پہنچتا ہے تو وہاں جا کر پتہ چلتا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کیا بیان فرمارہے ہیں۔صحیح مسلم کتاب البر میں یہ حدیث ملتی ہے فرمایا ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے بڑھ بڑھ کر بولی نہ دو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے کی