خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 223 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 223

خطبات طاہر جلد۵ 223 خطبہ جمعہ ۱۴ / مارچ ۱۹۸۶ء کے لئے یہ آنسو نہیں ہیں اُن کے لئے یہ دل کے درد نہیں ہیں۔یہ ہمارا اپنے پیاروں کے ساتھ ایک تعلق ہے اور خدا کا اس کے ساتھ تعلق ہے۔جہاں تک احمدیت کے دشمن کا تعلق ہے اُن کو ہمارا یہی پیغام ہے کہ جتنی ٹھوکریں تم ہمیں لگاؤ گے خدا کی قسم ہم پہلے سے بڑھ کر زیادہ طاقتور اور صاحب عزم ہوتے چلے جائیں گے۔جتنا تم ہمیں دبانے کی کوشش کرو گے پہلے سے سینکڑوں گنا زیادہ قوت کے ساتھ ہم ابھریں گے۔تم اگر حسد کرتے ہو کہ ہمارا مقام ہمالہ کی چوٹیوں تک پہنچ گیا ہے تو ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ اس مقام سے گرانے کی کوشش کرو گے تو ہم شریا سے باتیں کرنے لگیں گے۔وہاں سے گرانے کی کوشش کرو گے تو ہفت اقلیم تک خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ جماعت احمدیہ کی شہرت ضرور پہنچے گی اور بلند تر مرتبے اور بلند تر مقامات پر جماعت کا قدم اوپر سے اوپر بڑھتا چلا جائے گا۔اس لئے ہم دشمن کے مقابل پر اس قسم کا عزم رکھنے والی جماعت ہیں۔وہ ہماری عاجزی اور انکساری سے کہیں دھوکہ نہ کھا جائے۔اور یہ بھی بڑی خوشی کی بات ہے ، بڑے اطمینان کی بات ہے کہ جتنے خط جماعت کی طرف سے موصول ہورہے ہیں ان میں بیشتر میں اس بات کا اظہار پایا جاتا ہے کہ ہم اپنے لئے نہیں کہہ رہے، ہم ماحول میں تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں۔ایسے ایسے کمزور احمدی جن کے متعلق وہم و گمان بھی نہیں کر سکتے تھے کہ وہ کسی قربانی کا نام لے لیں گے ان کے چہروں کے ہم رنگ بدلے ہوئے دیکھ رہے ہیں، ان کی پیشانیوں پر ہم نئے عزم کے آثار دیکھ رہے ہیں۔ایک عظیم انقلاب برپا ہورہا ہے جماعت کے اندر۔اس لئے بہت بہت مبارک ہو کہ ہر قربانی جو جب گزر جاتی ہے تو پیچھے مڑ کر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عملاً جو خدا کے فضل نازل ہوئے اس کے مقابل پر کچھ بھی نہیں تھی۔ہر قربانی جو جماعت پیش کر رہی ہے اُس کے مقابل پر جو سعادتیں نازل ہو رہی ہیں۔اللہ کی طرف سے جو عظیم روحانی انقلاب برپا ہو رہا ہے اُس کی تو قیمت ہی کوئی نہیں ہے۔کوئی شکوہ نہیں ہے اپنے رب سے۔جس قسم کا تلخ گھونٹ اس کی رضا ہم سے بھرنے کا تقاضا کرے گی ہنستے ہوئے ،مسکراتے ہوئے ،سر کو جھکاتے ہوئے اُس کے حضور ہم اُس کی رضا کے لئے ہر تلخ گھونٹ کو بھریں گے۔لیکن ایک ایک تلخ گھونٹ لامتناہی میٹھے چشمے جاری کر دے گا اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کے کیونکہ ہمیشہ اُس کی رضا کی خاطر تلخ گھونٹ بھرنے والوں سے اُس کا یہی سلوک ہوا کرتا ہے۔