خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 222
خطبات طاہر جلد ۵ 222 خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۸۶ء جماعت کی ایسی تربیت ہے کہ انفرادی طور پر ایسے لوگوں کو ایسے خاندانوں سے تعلق رکھ کر کچھ رقمیں دینے کو مناسب نہیں سمجھا جاتا۔اس میں کئی قسم کی قباحتیں پیدا ہوتی ہیں اور ہم یہ پسند نہیں کرتے کہ ذاتی طور پر یہ لوگ کسی کے احسان کے نیچے آئیں۔اس لئے جن کی تمنا ہے جو اس بات کے لئے تڑپ رہے ہیں کہ ہمیں بھی موقع ملنا چاہئے ان کے لئے پھر یہی رستہ باقی رہ جاتا ہے کہ نظام جماعت ان کو موقع دے اور وہ جماعت میں اپنی توفیق اور اپنی خواہش اپنی تمنا کے مطابق کچھ نہ کچھ پیش کریں۔اس لحاظ سے یہ سب باتیں سوچنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آج اس تحریک کا اعلان کرتا ہوں۔اس کے لئے میں اپنی طرف سے دو ہزار پونڈ سے اس کا آغاز کرنا چاہتا تھا۔مگر انگلستان کی جماعت کے ایک دوست مجھ سے پہل کر گئے باقی تو مشورے دے رہے تھے انہوں نے ایک ہزار پونڈ کا ساتھ چیک بھیجوا دیا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے توفیق ان کو دے دی کہ وہ سبقت لے گئے ہیں۔مگر بہر حال دوسرے نمبر پر میرا نام آجاتا ہے اور اب جس کو خدا تعالیٰ جتنی توفیق عطا فرمائے۔پوری طرح شرح صدر اور محبت کے جذبے سے جو دینا چاہتا ہے وہ دے گا۔ادنی سا بھی تر دریا بوجھ ہو تو ہرگز نہ دے۔اس پر لازم ہے کہ وہ نہ دے کیونکہ یہ ایسی تحریک نہیں ہے کہ جس طرح چندوں میں بعض دفعہ بوجھ اٹھا کر بھی آپ دیتے ہیں۔یہ ایک خاص نوعیت کی تحریک ہے اس میں بشاشت طبع ہی ضروری نہیں بلکہ طبیعت کا دباؤ ضروری ہے ، دل سے بے قرار تمنا اٹھ رہی ہو، ایک خواہش پیدا ہو رہی ہو کہ میں اس میں شامل ہوں۔پھر خواہ کسی کو آنہ دینے کی بھی توفیق ہو وہ بھی بہت عظیم دولت ہے، وہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑی سعادت ہوگی۔تو اس تحریک کا میں اعلان کرتا ہوں اور اسی پر اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔لیکن ختم کرنے سے پہلے ایک دفعہ پھر آپ کو دعاؤں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔دعائیں کرنا اور دعا میں گریہ وزاری کرنا یا ان پیاروں کی یاد میں دل کو نرم پانا یہ کوئی کمزوری نہیں ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔لیکن دشمن کے مقابل پر نظر نیچی کرنا اور اپنے مقاصد سے منہ موڑ لینا یا ان میں نرمی پیدا کر دینا یا اپنے عزائم میں کسی قسم کی کمی برداشت کر لینا کسی قسم کی کمزوری برداشت کر لینا یہ مومن کو زیبا نہیں ہے۔ہر ٹھوکر کے بعد پہلے سے زیادہ عزم ہونا چاہئے ، پہلے سے بلند تر حو صلے ہونے چاہئیں، پہلے سے زیادہ بختی برداشت کرنے کے ارادے ہونے چاہئیں، اور اس کے مطابق دعائیں بھی پڑھنی چاہئیں ساتھ ساتھ۔پس جہاں تک ان لوگوں اور دشمنوں کا تعلق ہے۔اُن