خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 208
خطبات طاہر جلد۵ 208 خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۶ء ایک دوراب ہے کہ اس سے بھی بڑھ کر اور مطالبات ہو رہے ہیں۔اس لئے اگر آپ کا عزم بڑھ رہا ہے تو اس بڑھتے ہوئے عزم کی ضرورت بھی ہے آپ کو اگر آپ کے حوصلے بلند ہورہے ہیں تو ان بلند ہوتے ہوئے حوصلے کی آپ کی ضرورت بھی ہے اس لئے اس دعا سے غافل نہ رہیں کہ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوبَنَا وَ إِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ (آل عمران: ۱۴۸) اے خدا ! ہم سے بخشش کا سلوک فرما عفو کا سلوک فرما اور ہمارے پائے ثبات کو مزید ثبات بخش کیونکہ اس کے بغیر ہم بغیر تیری نصرت کے تیرے انکار کرنے والوں پر فتح نہیں پاسکتے۔یہ فتح تو نے عطا فرمانی ہے لیکن ہم تجھ سے ہی حوصلہ مانگتے ہیں، تجھ سے ہی صبر ما نگتے ہیں ، تجھ سے استقامت مانگتے ہیں۔پس ان دعاؤں کے ساتھ اپنے ان مظلوم بھائیوں کے لئے ، ان کے اہل وعیال کے لئے اورساری جماعت کے لئے اور اسلام کے لئے کثرت سے دعائیں کریں اور اپنے ملک یعنی پاکستانیوں سے میں کہہ رہا ہوں کہ اپنے ملک کے لئے بھی دعا کریں۔کیونکہ مجھے ڈر یہ ہے کہ اب اس مقام تک بات پہنچ چکی گئی ہے کہ جس کے بعد پھر واپسی کے رستے دکھائی نہیں دیتے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے سورہ بروج میں یہ نقشہ کھینچا ہے: إِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ (البروج : 1) کہ وہ لوگ جنہوں نے میرے بندوں کو، مومنوں کو فتنے میں مبتلا کیا اور پھر راضی نہیں ہوئے کافی نہیں سمجھا اس کو ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا پھر دوبارہ انہوں نے تکرار کیا اور تو بہ نہیں کی فَلَهُمْ عَذَابَ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ اُن کے لئے بھی دوہرے عذاب کی خبر دی جاتی ہے۔عَذَابُ جَهَنَّمَ بھی ہے ان کے لئے اور عَذَابُ الْحَرِيقِ بھی ہے یعنی آگ میں جلتے رہنے کا عذاب۔اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح وہ ایک بات کرتے ہیں ظلم کی اور پھر اس کا اعادہ کرتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی ایک پکڑ کرتا ہے اور اس پکڑ کا اعادہ بھی کرنا جانتا ہے۔اور یہ عجیب تو ارد ہے کہ اس گزشتہ تھوڑے سے دور میں اس آیت کی ایک ظاہری تفسیر