خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 207
خطبات طاہر جلد۵ 207 خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۶ء ایجاد کرنے میں محو ہوگا۔مومن کے وہم میں بھی نہیں آسکتا۔مگر اللہ تعالیٰ بتاتا ہے ہمیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو ان کے دل چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں نظر آرہا ہے۔اکبر ہے وہ، جو تمہیں نہیں دکھائی دے رہا وہ ہم دیکھ رہے ہیں وہ بغض اور کینے جو وہ پال رہے ہیں تمہارے متعلق ، وہ سارے کے سارا ظاہر نہیں ہوا اس لئے نہیں کہ وہ خدا نے ظاہر نہیں ہونے دیا، خدا نے خدا کی تقدیر نے ہاتھ روکے ہوئے ہیں۔مگر خدا جانتا ہے کہ جہاں تک بغضوں کے ذخیروں کا تعلق ہے۔وہ اسی طرح بے پناہ جوش کے ساتھ اہل رہے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے ایسے دلوں کا نقشہ ایک اور آیت میں اس طرح کھینچا کہ جب خدا تعالیٰ جہنم سے کہے گا کہ کیا تو اب مطمئن ہوگئی ہے تو جہنم آگے سے جواب دے گی هَلْ مِنْ مَّزِيدٍ (ق:۳۱) کہ یہ آگ جو ہے یہ تو پیٹ بھرنے والی چیز نہیں ہے۔یا آگ ایسی چیز ہے جس کا پیٹ نہیں بھرا جا سکتا اس لئے هَلِ امْتَلَاتِ کا جواب کہ کیا تو بھر گئی ہے؟ میرا تو ہمیشہ یہی رہے گا کہ ہر دفعہ جب بھی میری جہنم کے اندر میرے جہنم کا پیٹ بھرنے کی کوشش کی جائے گی میں یہی آگے سے کہوں گی هَلْ مِنْ مَّزِيْدِ، هَلْ مِنْ مَّزِيْدِ کچھ اور بھی ہو تو لے آؤ ، کچھ اور بھی ہو تو لے آؤ۔تو مومن کے برعکس وہ لوگ جن کو ایمان کی حقیقت کا علم نہیں ہوتا ان کے دلوں میں انتقام کی آگ اسی طرح جل رہی ہوتی ہے جیسے جہنم میں کوئی آگ جل رہی ہو وہ تو ہمیشہ هَلْ مِنْ مَّرِيدِ کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔چنانچہ آپ احمدیت کی دشمنی کی تاریخ پر نظر ڈالیں ہمیشہ آپ کو پہلے سے بڑھتے ہوئے مطالبات دکھائی دیں گے۔ایک مطالبہ کے بعد جو بہت ہی لغو نظر آتا تھا قوم کو اور اس وقت اُس زمانے کی قوم کے سرداروں نے سمجھا کہ اتنا احمقانہ مطالبہ ہے اسے ہم کیسے منظور کر سکتے ہیں! جب آہستہ آہستہ دباؤ بڑھنے شروع ہوئے اور ادھر ایمانوں میں کمزوری آنی شروع ہوئی، اخلاق میں کمزوری آنی شروع ہوئی تو لغو مطالبات منظور کئے گئے کہ اس خیال سے کہ بس اب اس سے زیادہ کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔اگلے دور میں اس سے بھی زیادہ لغو مطالبات کہ بعض بدنصیبوں نے وہ بھی منظور کر لئے۔پھر اگلے دور میں اس سے بھی زیادہ لغو مطالبات پھر بعض بد بختوں نے وہ بھی منظور کر لئے اور