خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 197
خطبات طاہر جلد۵ 197 خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۶ء کریں یا عوام تو نہیں کہنا چاہئے ، مولویوں کا ایک ٹولہ کرے اور حکومت کہے کہ ہم کیوں پیچھے رہ جائیں۔حکومت کے اوپر کے چوٹی کے افسران یہ سمجھیں کہ جب معمولی ، عام مولوی اتنا ثواب کما رہے ہیں تو ہم تو سربراہان مملکت ہیں ہم کیوں نہ ثواب میں حصہ لیں تو ایک کی بجائے وہ دو قتل کروا دیں اور وہ بھی بیٹے ان کے اور عجیب ہے کہ اس سے پہلے ان کو پوتا بھی بیچ میں شامل تھا وہ بھی قید میں رہا ہے۔کوئی انصاف کا کوئی سایہ تک بھی ان کے دلوں پر نہیں پڑا۔تقویٰ نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی اس کے بغیر تو اگر یہ بات نہ ہو تقوی کا ایک ادنی سا شائبہ بھی ہو تو ناممکن ہے کہ انسان اس جرات کے ساتھ ایسے ظالمانہ فیصلے کر سکے یا کروائے پہلے اور پھر ان کی توثیق کرے۔یہ تو ایسا دل لگتا ہے جیسے گھونسلے سے پرندہ کوچ کر چکا ہو اور اسے خالی چھوڑ دے۔تقویٰ بھی دل کی پاکیزگی کا ضامن ہوتا ہے اور انسانی فطرت جوں جوں ظلم یا بدیاں کرتی ہے اگر تقویٰ موجود ہوتو وہ ساتھ ساتھ دھوتا بھی رہتا ہے۔جس طرح آباد گھونسلا گندا بھی ہوتا رہتا ہے اور صاف بھی ہوتا رہتا ہے۔لیکن وہ گھونسلا جسے پرندہ چھوڑ چکا ہو اس میں تو سوائے تعفن کے کچھ باقی نہیں رہتا۔سوائے گندگی کے اور دن بدن بڑھنے والی گندگی کے جس میں تعفن بڑھتا چلا جاتا ہے اور اس کے نصیب میں کچھ بھی نہیں لکھا ہوتا۔اسی طرح انسان کے دل کی کیفیت ہے۔اگر اس میں تقویٰ موجود نہ ہو تو پھر جو کچھ بھی تعفن اس میں ہوتا ہے وہ خود بخود مزید گندہ اور مزید متعفن ہوتا چلا جاتا ہے۔اس مقدمے کے متعلق جہاں تک انسانی کوششیں ہوسکتی تھیں وہ تو جماعت نے پوری کیں اور جو کوششیں اب بھی ممکن ہیں بظاہر تو کوئی صورت نظر نہیں آتی کیونکہ اس سے پہلے مارشل لاء نے اس بات کی پیش بندی کر لی تھی کہ مارشل لاء ہٹنے کے بعد بھی مارشل لاء کے سارے جابرانہ فیصلے باقی رہیں اور جابرانہ ہتھکنڈے جاری رکھنے کے سامان مہیا ر ہیں اور صدر جب چاہے اور جس طرح چاہے فیصلے کر سکے اور کوئی عدالت اس کو پوچھ نہ سکے۔یہ سارے فیصلے جب مارشل لاء ہٹایا گیا تو جمہوریت کے نام پر نافذ کئے جاچکے ہیں۔اس لئے عوام الناس کو سنانے کے لئے یا غیر ملکیوں کو دکھانے کے لئے اگر چہ بظاہر مارشل لاء ہٹ گیا ہے لیکن مارشل لاء کے جتنے بھی ناپسند دیدہ مکروہ پہلو ہوتے ہیں جن سے قو میں نفرت کرتی ہیں وہ سارے پہلو باقی رکھ لئے گئے ہیں۔