خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 196 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 196

خطبات طاہر جلد۵ 196 خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۶ء میں بعینہ یہی کارروائی ہوئی۔اور سارے معاملہ کو فوری طور رفع دفع کر دیا گیا۔جب احمدی و فودافسران سے ملے اور ان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اب تو یہ معاملہ باکل کھل گیا ہے، اب تم کیا کر رہے ہو، کیوں مجرموں کو قید کیا ہوا ہے، کیوں اذیتیں دے رہے ہو تو انہوں نے کہا کہ ہم بے بس ہیں، لیکن ہم آپ کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم نے ان واقعات کی اطلاع اور اپنا تجزیہ افسران بالا تک پہنچا دیا ہے اور وہ خوب جان چکے ہیں، گورنر تک اور دوسرے بڑے افسران ،صدر کا انہوں نے نام تو نہیں لیا لیکن مقصد یہی تھا کہ اوپر تک، آخر تک بات پہنچا دی گئی ہے کہ جماعت احمدیہ کا قطعا کوئی قصور نہیں۔ایک سازش کا شکار ہے اور اس کی کڑیاں خود بخود آہستہ آہستہ ظاہر ہورہی ہیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے معذرت کی کہ ہم بالکل بے اختیار لوگ ہیں ، ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔چنانچہ یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ ان سے مقدمہ لے لیا گیا۔ورنہ آج کل جو پاکستان میں معیار ہے اس کے مطابق بہت شاذ ہیں ایسے شریف لوگ جو جرات بھی غیر معمولی رکھتے ہیں اور حکومت کے دباؤ کے بغیر انصاف پر قائم رہنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔اس لئے بہر حال ان کی تو جان اس طرح چھٹی کہ چونکہ ان کی رپورٹیں بڑی واضح تھیں کہ احمدی کا اس میں کوئی قصور نہیں اور خود احمدی شرارت اور ظلم کا نشانہ بنا ہوا ہے اس لئے حکومت نے اُن سے یہ سارا معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا یعنی بالا حکومت نے اور فوج کے سپر د کر دیا۔فوج نے جو تحقیق کی اور جو وہاں مقدمہ چلا اس کی پوری کا رروائی ہمارے پاس محفوظ ہے۔اس کا رروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض اوقات عدالت کے صدر جج نے بے ساختہ مولوی کے جھوٹ پر تعجب کا اظہار کیا اور یہاں تک کہا کہ ملاں ہو کے تم قرآن کریم اٹھا کر اتنا واضح اتنا قطعی جھوٹ بول رہے ہو لیکن یہ ساری باتیں اپنی جگہ، اس کے باوجود ہمیں ان سے انصاف کی کوئی توقع نہیں تھی کیونکہ فیصلے اُس سطح پر نہیں ہونے تھے جس سطح پر تحقیق ہو رہی تھی۔اگر اس سطح پر فیصلے ہونے ہوتے تو پہلے عام عدلیہ کو عام انتظامیہ کو کیوں موقع نہیں دیا گیا کہ وہ اس معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لیتے۔اس لئے یہ بات تو بہر حال ظاہر تھی کہ کوئی نہ کوئی ظلم ضرور کیا جائے گا۔اور اب فیصلہ یہ ہے کہ عبدالرحمن صاحب شہید کے دو بیٹوں کومحمد ناصر صاحب اور محمد رفیع صاحب کو پھانسی کی سزا سنادی گئی ہے اور حد سے زیادہ سفا کی ہے کہ ایک بوڑھے باپ کو پہلے ظالمانہ طور پر شہید کرو۔وہ تو عوام