خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 190
خطبات طاہر جلد۵ 190 خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۸۶ء نہیں ہوتا جب تقویٰ پر بنیاد ہو گی تو وہ درخت ہیں جو انسانیت کو ملیں گے اور یہ وہ پھل ہیں جو انسانیت کو عطا ہونگے۔اس درخت کی طرف دوڑو! اور اس درخت کو حاصل کرو جس کی جڑیں زمین میں گہری پیوستہ ہیں اور شاخیں آسماں سے باتیں کر رہی ہیں اور خدا سے رزق حاصل کرتی ہیں بندے کے رزق کی خاطر وہ خدا سے دھوکہ نہیں کر رہی ہوتیں۔دیکھو رزق کے مضمون کو بھی آسمان تک پہنچا دیا۔فرمایا تم سمجھتے تھے کہ رزق تمہاری طرف سے خدا کو جاتا ہے اور یہ سمجھ کے تم نے خدا کے رزق مارنے شروع کئے۔تم سمجھتے تھے کہ تم ہو جو خدا کو دیتے ہواور یہ سمجھ کر تم نے فیصلہ کرنا شروع کیا کہ کتنا خدا کو دینا ہے اور کتنا خدا کو نہیں دینا۔لیکن ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ اگر تمہارا تقویٰ درست ہو تو تمہیں بالکل کچھ اور دکھائی دینے لگے ، تمہارے رزق کے تصور کا جہان بدل جائے۔تمہیں یہ معلوم ہو کہ زمین سے کچھ بھی نہیں آتا۔جو کچھ بھی آتا ہے آسمان سے آتا ہے۔جو پھل بھی عطا ہوتا ہے وہ آسمان سے عطا ہوتا ہے اور اسی میں سے کچھ امتحانا تم سے واپس مانگا جاتا ہے اور تمہارے پاس اپنا تو کچھ بھی نہیں ہے۔اللہ ہے جو غنی ہے تم تو فقیر لوگ ہو۔اس مضمون کو سمجھ کر مالی قربانی میں آگے بڑھیں گے تو پھر آپ دیکھیں گے کہ آپ کی زندگی میں ایک انقلاب واقعہ ہو جاتا ہے اتنا عظیم الشان انقلاب بر پا ہوگا آپ کی زندگی میں کہ وہ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والا انقلاب ہوگا، آپ کی اولاد پر اس کا صحت مند اثر ہوگا آپ کے انسانی معاملات پر اس کا صحت مند اثر ہو گا۔نسلاً بعد نسل یہ آپ کی نیکی آپ کی اولاد کے خون میں منتقل ہوتی چلی جائے گی۔ایک فرحت اور اطمینان اور تسکین آپ کو نصیب ہوگی جو ویسے آپ حاصل کرہی نہیں سکتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ اس جڑ کو پکڑ لیں کہ جو ہر نیکی کی جڑ ہے۔خدا اس جڑ کو باقی رکھے کیونکہ یہ جڑ باقی رہے تو سب کچھ باقی رہتا ہے۔