خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 12
خطبات طاہر جلد۵ 12 خطبہ جمعہ ۳ /جنوری ۱۹۸۶ء قدر کا ایک معنی پہچانے کے بھی ہیں۔جب کہا جاتا ہے کہ اللہ نے بندے کی قدر کی تو اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو خوب اچھی طرح پہچانتا ہے اور اس کی صفات سے خوب اچھی طرح واقف ہے، اس کے نتیجہ میں اس کے ساتھ ہمیشہ صحیح سلوک فرمائے گا۔لاعلمی کے نتیجہ میں وہ کوئی غلط سلوک نہیں کر سکتا۔اس کا علم کے ساتھ بھی ایک تعلق ہے اسی لئے قرآن کریم میں بسا اوقات علیم اور قدیر صفات کو جوڑ کر بیان فرمایا گیا ہے۔تو قدر کے معنی ہیں پہچان لینا، معرفت حاصل کر لینا۔مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِة ( الانعام:۹۲) اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے خدا کی قدر نہیں کی ، خدا کی قدر کن معنوں میں؟ اس کی عظمت کو نہیں پہچانا۔ایک دفعہ ایک یہودی عالم آنحضرت علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے علم کا زعم لیکر اس نے ایک ایسی چیز اپنی طرف سے آنحضرت علی کے سامنے بیان کی جسے وہ سمجھتا تھا کہ گویانعوذباللہ اس کے علم کا رعب پڑ جائے گا اور بات وہ بیان کی جو آنحضرت ﷺ کے سامنے کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی تھی۔اس نے یہ بیان کیا کہ ہم نے تو رات میں یہ پڑھا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ایک انگلی پر آسمان ہے، ایک انگلی پر زمین ہے، ایک انگلی پر دوسری بعض مخلوقات ہیں۔اس طرح چند انگلیاں اس نے گنوائیں اور کہا کہ اس پر یہ چیز ہے۔اس پر وہ چیز ہے اور اس پر وہ چیز ہے، آنحضرت ﷺ اس پر اتنا مسکرائے کہ راوی بیان کرتا ہے کہ آپ کے دانت نظر آنے شروع ہو گئے اور آپ نے یہ آیت پڑھی مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِہ ان لوگوں نے اللہ کی معرفت کو پہچانا نہیں ( صحیح بخاری تفسیر القرآن حدیث نمبر : ۴۴۳۷)۔یہ عجیب بات ہے کہ راوی جو بیان کرتے ہیں اس روایت کو اور بعض احادیث کے علماء بالکل برعکس نتیجہ نکالتے ہیں اس سے۔وہ کہتے ہیں آنحضرت ہ مسکرائے اس وجہ سے کہ آپ نے تائید فرمائی کہ ہاں ہاں تو نے بہت ہی معرفت کا نکتہ بتایا ہے اور اس کی تائید میں یہ آیت پڑھی۔حالانکہ یہ آیت خود بتا رہی ہے کہ آنحضرت ﷺ اس بیچارے کی نادانی اور لاعلمی پر مسکرائے ان معنوں میں کہ تمہیں پتہ ہی نہیں کہ خدا ہے کیا چیز ؟ وہ مجھ سے سیکھو، مجھے کیا بتانے آئے ہو۔جس کی ذات میں سرتا پا خدا انہاں ہو چکا ہے اس کو یہ بتانے آئے ہو کہ خدا کیا ہے اور ایسی اس کی صفات دنیا میں جلوہ گر ہورہی ہیں۔تو تحقیر کا مسکرانہ نہیں تھا وہ ، نہ تائید کا تھا بلکہ معرفت الہی کے نتیجہ میں ایک بے اختیار مسکراہٹ تھی۔جس پر کوئی انسان اپنے اختیار سے قابو ہی نہیں پاسکتا اور