خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 173
خطبات طاہر جلد۵ 173 خطبه جمعه ۲۸ / فروری ۱۹۸۶ء ہراک نیکی کی جڑ یہ انتقا ہے موصیان و چندہ دہندگان کو تقویٰ کی نصیحت (خطبه جمعه فرموده ۲۸ فروری ۱۹۸۶ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کریمہ کی تلاوت فرمائی: وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًان وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا پھر فرمایا: (الطلاق: ۴۳) حضرت اقدس مسیح موعوعلیہ الصلوۃ والسلام ایک نظم لکھ رہے تھے جس کا موضوع تھا تقویٰ جب آپ اس مصرعہ پہ پہنچے کہ ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقاء ہے تو معا الہام ہوا اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے ( تذکرہ صفحہ ۳۳۴۲) اور بھی بعض حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایسے اشعار ہیں جن میں ایک مصرعہ آپ نے کہا تو دوسرا اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔یہ ایک بہت ہی گہری حکمت کی بات ہے کہ تقویٰ کی جڑا گر رہے تو سب کچھ رہا ہے۔قرآن کریم اس مضمون کو یوں بیان فرماتا ہے اَصْلُهَا ثَابِتُ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ (ابراہیم:۲۵) کہ مومن کی زندگی کا پاکیزہ درخت کلمہ طیبہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کی جڑ زمین میں بہت گہری