خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 168 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 168

خطبات طاہر جلد۵ 168 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۸۶ء اپنے اصول کو بیچا ہے، چند دن کی حکومت کے لئے اور آمر سے تعاون کیا ہے۔اس لئے وہ مجبور ہیں اس توجہ کو مٹانے کے لئے ، اس کا رخ موڑنے کے لئے کچھ اور فساد کھڑے کئے جائیں گے اور جماعت احمدیہ سے بہتر ان کو اور کوئی سہارا نہیں مل رہا۔ایک اور بھی ہے وہ ہے شیعہ ازم کا اور پاکستان کی اخبارات پر نظر ڈالنے سے معلوم ہو رہا ہے کہ شیعہ ازم کو بھی ابھارنے کے لئے پوری کوشش کی جارہی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اب تک احمدیوں کے متعلق جو بھی کچھ کھیل کھیلے گئے ہیں عوام باخبر ہو چکے ہیں اور پوری طرح اٹھ نہیں سکے جیسا کہ ان کو توقع تھی۔لیکن یہ سمجھتے ہیں کہ ایرانی حکومت کی شیعہ حکومت کی سنی حکومتوں سے لڑائی کے نتیجے میں بالعموم شیعہ اور سنی عالم بٹے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں ، خوف کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ شیعہ سوال اگر اٹھایا جائے تو ہو سکتا ہے ہماری جان چند دن اور کیفر کردار تک پہنچانے والوں کے ہاتھ سے بچ جائے۔اس لئے بے اختیار اور مجبور ہوئے ہیں اس بات کے لئے کہ کوئی بہانہ ڈھونڈیں ملک میں کوئی ایسے فساد برپا کریں جس کے نتیجے میں قوم کی توجہ ہٹ جائے اور قوم سیاست دانوں کے ہاتھوں میں آنے کے بجائے ہمارے ہاتھوں میں اور ملاں کے ہاتھوں میں کھیلے۔اس کا کیا انجام ہوگا وہ تو واضح ہے کیونکہ ہماری تو قرآن کریم کی تاریخ پر نظر ہے ہم اس انجام کو اسی طرح دیکھ رہے ہیں جیسے ماضی کو دیکھا کرتے ہیں لیکن انکو نظر نہیں آرہا اور یہی کوشش کر رہے ہیں کہ جس طرح بھی ہو ہم ان بظاہر مذہبی سوالات کو اُٹھائیں اور اس کے نتیجے میں عوام کے جذبات کو انگیخت کر کے توجہ دوسری طرف منتقل کر دیں۔اس لئے جماعت احمدیہ پاکستان کو بالخصوص میں نصیحت کرتا ہوں کہ جس طرح انہوں نے گزشتہ سال اور اس سے پیوستہ سال نہایت ہی صبر اور استقامت کے ساتھ ، دعاؤں کے ساتھ ،عزم اور ہمت کے ساتھ عشق و وفا کے ساتھ ، خدا کی راہ میں تکلیفیں اٹھاتے ہوئے تسلیم ورضا کے ساتھ دن گزارے تھے اسی طرح ان روایات کو زندہ رکھیں اور ان سے چھٹے رہیں بلکہ آگے بڑھا ئیں اور کسی قسم کا ظلم بھی جس کی کوئی بھی انتہاء ہوسکتی ہے، وہ حکومت کی طرف سے تو ڑا جائے یا عوام کی طرف سے ظاہر ہو اس کو خدا کے نام پر خدا کی خاطر مردان مومن کی طرح برداشت کریں۔