خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 167 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 167

خطبات طاہر جلد۵ 167 خطبہ جمعہ ۲۱ فروری ۱۹۸۶ء انسان کی سوچ ان کی سوچ ہے اور چونکہ دل تقویٰ سے خالی ہیں اس لئے علم بجائے نیکی پھیلانے کے ظلم اور سفا کی پھیلانے کے لئے استعمال ہورہا ہے۔اپنے برتے پر ملاں کبھی دنیا میں حکومت نہیں کر سکتا ہے کوئی قوم کبھی کسی ملا کی حکومت کو برادشت نہیں کر سکتی ہے اگر اسکو اختیار ہو چنے کا۔اس لئے واقعہ یہ مثال ان پر صادق آتی ہے کہ ان کی اپنی ٹانگیں نہیں ہیں پھل کھانے کے لئے ، ہمیشہ سے اس طرح زندگی گزاری کہ گرا ہوا پھل کھاتے ہیں۔ہمارے دیہات میں، ہمارے شہروں میں ان کی حیثیت صدقہ خیرات زکوۃ کھانے والوں کی سی رہی ہے۔بہت سے بعض شرفاء بھی ہیں ، باغیرت بھی ہیں، اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا بھی جانتے ہیں لیکن انفرادی حیثیت سے۔Insitution کے لحاظ سے، ایک نظام کے اعتبار سے یہ ہمیشہ مرہون منت رہے ہیں دوسروں کی رحم دلی کا ، اور جو رزق ان کی جھولی میں ڈالا گیا اسی پر غنیمت کی۔ان کا بھی تو دل چاہتا ہے کہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں لیکن پاؤں ہیں نہیں کھڑے کس پر ہوں۔اس لئے اسلامی تاریخ میں ملاں نے جب بھی پھل پر براہ راست ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی ہے وہ دوسروں پر سوار ہوا ہے۔اسلامی سیاستدانوں پر سوار ہوا ہے، اسلامی بادشاہتوں پر سوار ہوا ہے اور ان کے کندھے پر چڑھ کر اس نے پھلوں پر ہاتھ ڈالے ہیں۔اور وہ تو یہ سمجھتے رہے کہ عارضی قصہ ہے ہماری طرف سے اتنے احسان ہورہے ہیں اس قوم پر تو کچھ اور سہی لیکن ہمیشہ ملاں پیر تسمہ پا بنا ہے قوموں کے لئے اور کبھی بھی اس نے پھر اپنے پھندے سے ان گردنوں کو آزاد نہیں کیا۔کہانی کے مطابق وہ سیاح جو پیرے تسمہ پا کے پھندے میں جکڑا گیا تھا اسکی نجات کا تو بالآخر سامان ہوگیا لیکن بدقسمتی سے حقیقی دنیا میں ہم ان قوموں کی نجات کا کوئی سامان نہیں پاتے۔جن لوگوں کی گردنیں ایک دفعہ ملاں کے پھندے میں جکڑی گئیں ہیں پھر وہ کبھی آزاد نہیں ہوئیں۔اور یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا سیاست دان جو باشعور ہے اور باغیرت ہے اور باحیاء ہے جس نے اس حکومت کے سامنے سر جھکانے سے ہر قیمت پر انکار کر دیا ہے۔وہ کلیۂ گفت وشنید سے مایوس ہو چکا ہے اور جانتا ہے کہ ساری قوم کو لے کے اسے گلیوں میں نکلنا پڑے گا۔ایک خونی سے اپنے ملک کو آزاد کروانے کے لئے خون کی قربانی دینی ہوگی اور اس کے سوا اب کوئی چارہ باقی نہیں رہا۔ان حالات کو موجودہ وقت کے حکمران بھی دیکھ رہے ہیں اور وہ سیاستدان بھی دیکھ رہے ہیں جنہوں نے