خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 166
خطبات طاہر جلد۵ 166 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۸۶ء گزر رہی تھی مگر تنہائی نے مصیبت ڈالی ہوئی تھی۔ایک دفعہ گزرتے ہوئے اُس کو ایک انسانی آواز آئی اُس نے دیکھا تو ایک درخت کے نیچے ایک بہت ہی بوڑھا آدمی جس کی سفید ریش زمین کو چھورہی تھی اور سر کے بال بھی لمبے اور سفید تھے ، ہاتھ میں تسبیح پکڑی ہوئی اور ذکر الہی میں گویا بظاہر ذکر الہی میں مصروف تھا۔اُس نے اس کو آواز دی اُس نے کہا میاں ذرا ادھر آؤ۔دیکھوٹانگیں، ان ٹانگوں میں خود کھڑا ہونے کی طاقت نہیں ہے۔اُس نے دیکھا تو واقعی جس طرح ربڑ کی کوئی چیز ہو اس طرح ٹانگیں لٹکی ہوئی تھیں ان میں واقعہ کوئی طاقت نہیں تھی۔اُس نے کہا! میں تو دوسرے کے سہارے کا محتاج ہوں اس لئے تم اتنا مجھ پر احسان کرو کہ مجھے اپنے کندھے پر بٹھا لو تا کہ میں اپنے ہاتھ کے تازہ پھل تو ڑ کر کھاؤں اور یہ بھی مزہ لوں جو ٹانگوں والے مزے لیتے ہیں۔اُس کو یہ کہانی سن کر بڑا رحم آیا اور اس نے کہا کہ اس میں تو کوئی بات نہیں میں آپ کو اپنے کندھے پر بیٹھا لیتا ہوں چنانچہ دونوں ٹانگیں اس نے ایک اس طرف اور ایک اُس طرف رکھ کے اس کو اپنے کندھے پر بٹھایا اور پھل کھلایا جب وہ پھل کھا چکا تو اس نے کہا کہ اچھا بابا میں آپ کو اتارتا ہوں تو اس نے کہا اب تو میں نہیں اتروں گا۔اب تو مجھے جو مزہ پڑ گیا ہے کسی کے کندھے پر سوار ہو کر پھل کھانے کا ، میں اتنا ہی پاگل ہوں کہ اس مزے کو چھوڑ دوں اس سے محروم رہ جاؤں ، اب تو ہر حالت میں یہ ٹانگیں تمہاری گردن کا ہار بنی رہیں گی۔چنانچہ اس نے کس کر اُن ٹانگوں کا پھندہ بنا کر اس کی گردن میں ڈال دیا، جب وہ اس کو گرانے کا ارادہ کرتا تھا تو وہ پھندہ اور زیادہ سخت ہو جاتا تھا اور کہانی کے مطابق وہ ہمیشہ کے لئے بڑھا اس نو جوان پر سوار ہو گیا۔ملاں کی بھی کوئی ٹانگ نہیں ہے، حکومت کرنے کی کوئی ٹانگ نہیں ہے، کوئی جواز نہیں ہے کہ یہ حکومت پر آئے ، اس کو کوئی دنیا کے نظم و انصرام سے تعلق ہی نہیں ہے ، اس کو فہم ہی نہیں ہے کہ سیاست ہوتی کیا ہے، اس کو تقویٰ کا بھی علم نہیں، اس کو عدل کا بھی علم نہیں ، اسکو انصاف کا کوئی تصور نہیں، دنیا کے جغرافیہ تک سے ناواقف ہے۔آج تک یہ بھی نہیں مانتا کہ چاند پر بھی کوئی انسان پہنچ چکا ہے۔اس قسم کا ملاں جو نہ دین کا علم رکھتا ہو نہ دنیا کا علم رکھتا ہوں۔قرآن کریم کی وہ تفسیریں پڑھتا ہو جو گزشتہ زمانے میں بڑے بڑے بزرگوں نے لکھی مگر حالات سے ناواقفیت کے نتیجے میں بہت سی غلط باتیں قرآن کی طرف منسوب کر چکے ہیں۔انکی دنیا وہی وسطی از منہ کی دنیا ہے۔اُس زمانے کے