خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 165
خطبات طاہر جلد۵ 165 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۸۶ء وہی کیفیت ہے ، اس آمریت کی بنیادی طاقتوں کو اب یہ یقین ہو چکا ہے کہ زیادہ دیر تک یہ صورت حال باقی اب نہیں رہ سکتی۔وہ غیور اور صاحب فہم سیاست دان جو حقیقہ ملک میں جمہوری آزادی لانا چاہتے ہیں اور غیرت بھی رکھتے ہیں اور بصیرت بھی رکھتے ہیں وہ تو حکومت سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں اور جتنا وقت گزر رہا ہے ان کی بے چینی بڑھتی چلی جارہی ہے۔ساری قوم کو وہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھ رہے ہیں اور ان زنجیروں کے حلقوں کو زیادہ تنگ کیا جا رہا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ اب جو آمریت ٹھونسی جائے گی یہ اسلام کے نام پر ملاں کی آمریت ہوگی اور اس آمریت سے پھر چھٹکارا پانا بہت ہی مشکل ہو جائے گا۔اس لئے سارے پاکستان کے صاحب بصیرت سیاستدان بہت بے تاب ہو چکے ہیں اور بے چین ہو چکے ہیں۔جماعت احمدیہ کے حق میں جو ان کے بیانات آتے رہتے ہیں اس وجہ سے نہیں کہ جماعت احمدیہ سے ان کو محبت ہے۔وہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے نام پر ساری قوم کو پاگل اور بیوقوف بنایا جارہا ہے اور جس ملا کو اوپر لایا جارہا ہے ایک دفعہ اوپر آ گیا تو پھر اس کے پھندے سے نجات پانا قوم کے لئے مشکل ہو جائے گا۔ان کی تاریخ عالم پر نظر ہے چنانچہ اصغر خان صاحب نے جو کتاب لکھی موجودہ حالات پر اُس میں اس بات کو کھول کر بیان کیا ہے کہ تاریخ عالم سے ثابت ہے کہ ملاں کی حکومت جب بھی قائم ہوئی ہے اس نے قوم کو برباد کیا ہے اور یہ اس طرح ختم نہیں ہوا کرتی کہ ملک کے کچھ اور لوگ ان سے عنان لے لیں ، یہ اس طرح ختم ہوا کرتی ہے کہ غیر ملک آ کر پھر ایسے ملکوں پر قبضہ کیا کرتے ہیں کیونکہ ان کی حکومتیں ہمیشہ غداریوں پر منتج ہوتی ہیں اور اپنے وطن کو غیروں کے سپرد کرنے پر ان کی حکومتوں کا انجام ہوتا ہے۔پس ان کی بے چینی بڑھ گئی ہے اور وہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ ہر قیمت پر ہمیں ملائیت سے نجات حاصل کرنی ہوگی ورنہ یہ قوم کے لئے پیر تسمہ پا ثابت ہوگا۔پیر تسمہ پا کا لفظ شاید انگلستان کے نو جوانوں کو سمجھ نہ آئے اس لئے میں اس کی مختصر سی تشریح کر دیتا ہوں۔سند باد جہازی قصوں میں ایک یہ بھی قصہ ہے کہ ایک ایسے جزیرے پر اس کا جہاز ٹوٹا جہاں کہیں انسان کی تو کوئی خو بو نظر نہیں آتی تھی ، کوئی اس کا وجود نہیں ملتا تھا لیکن ویسے بہت زرخیز جزیرہ تھا ، بہت پھل ہر قسم کے خدا تعالیٰ کی طرف سے طبعی نعمتیں مہیا تھیں۔وہ جزیرے میں بس گیا پھل ول ہر چیز اچھی ملتی تھی کھانے کو۔اچھی زندگی