خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 164
خطبات طاہر جلد ۵ 164 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۸۶ء میں نہیں جاتا کہ مجھ سے کیا سلوک کیا جائے گا ، اتنے میرے گناہ ہیں، اتنی میری کمزوریاں ہیں ایسی غفلتیں ہوئی ہوں گی مجھ سے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں کہ ان کا خوف میری جان کو کھائے جا رہا ہے پس میں اپنی نیکیوں کا کوئی اجر تجھ سے طلب نہیں کرتا میرے آقا، میری غلطیوں سے پردہ پوشی فرمانا لا لى و لا على مجھے بے شک کچھ نہ دے مگر میرے خلاف کچھ نہ رکھنا۔اس کیفیت کا آدمی جو اس کیفیت کے ساتھ زندہ رہا ہو اور اس کیفیت میں جان دے رہا ہو وہ کیسے آمر بن سکتا ہے۔پس دنیا کی آمریت کا دہریت سے تعلق ہے اور مذہبی بظاہر آمریت کا گہر اخدا سے تعلق ہے اور دونوں میں تضاد اتنا زیادہ ہے کہ جیسے بعد المشرقین ہو۔دونوں کے اظہار بالکل مختلف ہو جاتے ہیں ، دونوں کا طرز عمل بالکل بدل جاتا ہے اور کوئی دور کی بھی مشابہت ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہتی۔پس میں جب دنیا کی آمریت کی بات کرتا ہوں تو یہ قطعی اور لازمی حقیقت ہے کہ یہ دہریت کی گود میں پلتی ہے، دہریت کا دودھ پی کر جوان ہوتی ہے اور دہریت کی قبر میں جان دیتی ہے اور ایسے موقع پر ایک مومن کے لئے سوائے اس کے کوئی بھی راہ باقی نہیں رہتی کہ وہ کلیہ ان معاملات کو اپنے رب کے سپر د کر دے اور یہ کہے کہ اے خدا! ہم ہٹ رہے ہیں بیچ میں سے، اب تو جانے اور تیرے یہ سرکش بندے جائیں جن کو بندہ ہوتے ہوئے بھی بندگی کی توفیق نہیں ملی ، جو مقدس نام لے لے کر نہایت بھیانک اور گھناؤنے کام کرتے رہے اور ایک لمحہ بھی ان کے دل میں خوف خدا نہ آیا۔اب تو جانے ، تو مالک ہے اور تو خالق ہے اور یہ تیرے بندے کہلانے والے لوگ جانیں۔پس جماعت احمدیہ کا جہاں تک تعلق ہے وہ یہی ایک صورت ہے۔لیکن ایسا شخص جو خدا کو نہیں مانتا وہ دنیا کو تو ضرور مانتا ہے، جو خدا کا خوف نہیں کھاتا وہ دنیا سے ضرور خوف کھاتا ہے اور جتنا زیادہ اپنی سفا کی اور ظلم میں بڑھتا چلا جاتا ہے اتنا ہی زیادہ دنیا کا خوف بڑھتا چلا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان حالات میں دوبارہ اس باسی کڑھی کو اُبال آیا ہے۔موجودہ آمریت خواہ کسی بھیس میں بھی پل رہی ہو۔ایک سیاست دان کا جمہوری لبادہ لے کر آئے یا ایک مولوی کا لبادہ اوڑھ کر آئے ، جس شکل میں بھی ہو بنیادی طور پر تو وہی آمریت ہے۔ع ہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیں جو آئے