خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 163
خطبات طاہر جلد۵ 163 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۸۶ء فیصلہ کرنے کے بعد آمر بنتا ہے کہ اب میں نے کبھی اس طاقت کے مقام سے الگ نہیں ہونا اور کسی قیمت پر نہیں ہونا اور ایسے لوگ بسا اوقات اپنی ایک حقیر جان بچانے کے لئے لکھوکھہا انسانوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہیں۔سٹالن نے جتنے قتل کروائے ہیں اپنی جان بچانے کے لئے ، یہ جانتے ہوئے کہ اگر میں نے ذرہ بھی کمزوری دکھائی تو لازما میں گولی کا نشانہ بنایا جاؤں گا اور جو میں ظلم کر چکا ہوں اس کے بدلے اتارے جائیں گے۔اتنے قتل و خون کروائے ہیں کہ اب اگر جب ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو یقین نہیں آتا کہ یہ ہو سکتا ہے؟ ابتداء میں جب میں نے سنے وہ اعداد وشمار تو میں یہی سمجھتا تھا کہ مغربی پرو پیگنڈہ ہے لیکن بعد ازاں جب روسی حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں اور اس بات کی توثیق کرتی رہیں کہ سٹالن نے واقعہ لکھوکھبا انسانوں کو محض اس خوف سے قتل کروایا کہ اسکے خلاف کوئی بغاوت نہ کھڑی کر دیں۔تو اس وقت مجھے سمجھ آئی کہ ایک ڈکٹیٹر (Dictator) کو اپنی جان کے بدلے میں دنیا کی کسی جان کی ، کسی قدر کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ہے اور یہی وہ دہریت ہے، یہی وہ نمرودیت ہے جس کا ذکر قرآن میں بارہا ملتا ہے۔ڈکٹیٹر خواہ مذہب کی دنیا میں ڈکٹیٹر ظاہر ہو یا غیر مذہبی دنیا میں ظاہر ہو وہ سوائے اپنے کے کسی اور کو خدا انہیں جانتا نہیں جان سکتا یہ اس کی نفسیات کے خلاف ہے۔یہ ڈکٹیٹر بنا ایک دہریت کے ساتھ ایسا گہرا تعلق رکھتا ہے کہ گو یاد ہر یت اس کی ماں ہے جس کی آغوش میں ڈکٹیٹر شپ پلتی ہے۔ورنہ مذہبی دنیا میں جہاں جواب دہی کا تصور موجو د ہے وہاں ڈکٹیٹر کا تصور قائم ہو ہی نہیں سکتا ہے۔یہی بنیادی فرق ہے ایک نبی کے صاحب حکم ہونے میں اور ایک دنیا دار کے صاحب حکم ہونے میں ، ایک خلیفہ کے صاحب حکم ہونے میں اور ایک عام آمر کے صاحب حکم ہونے میں۔نبی کی تو جان نکل رہی ہوتی ہے خدا کے خوف سے۔وہ جوابدہ ہوتا ہے ایک بہت ہی بالا اور ذوالاقتدار ہستی کے سامنے اور اسی طرح اس سے بہت عاجز تر خلفاء کی بھی یہی دلی کیفیت ہوتی ہے۔وہ تو سوچ بھی نہیں سکتے کہ اپنے اختیارات کو کسی رنگ میں بھی آمرانہ طور پر استعمال کریں۔ان کا تو وہی حال ہوتا ہے جو حضرت عمر بستر مرگ پر تھا۔بڑی بے قراری سے جان دی ، بہت تڑپ رہے تھے اور بار بار اپنے رب کے حضور یہ عرض کرتے تھے۔لالی و لاعلی، لالی ولا علی اے خدا! میں تجھے جوابدہ ہوں، میرا آخری وقت آن پہنچا ہے،