خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 162 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 162

خطبات طاہر جلد۵ 162 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۸۶ء تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے یہ معاملہ تو جماعت احمد یہ خدا کے ہاتھ میں دیتی ہے۔قرآن سے یہ ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایسے فیصلے ہوتے رہے ہیں۔بعض ظالموں کو ظلم کا موقع بھی مل جاتا رہا ہے لیکن خدا کی پکڑ ضرور ظاہر ہوئی ہے اُن کے متعلق۔آہستہ آئی ہو یا دیر سے آئی ہو خدا کی پکڑ نے ایسے صاحب جبروت لوگوں کو جو اپنے آپ کو صاحب جبروت سمجھتے تھے اور خدا تعالیٰ کو بے طاقت اور بے اختیار جانتے تھے یا اس کے وجود ہی کے قائل نہیں تھے اُن کے اس طرح نام و نشان دنیا سے مٹادیئے کہ عزت کا ہر پہلوان کے ناموں سے مٹ گئے اور ذلت کے سارے پہلوان کے ناموں کے ساتھ لگے ہوئے ہمیشہ کے لئے زندہ رہ گئے۔رہتی دنیا تک رحمتوں کی بجائے لعنتوں سے یاد کرنے کے لئے وہ نام باقی رکھے گئے۔اس لئے ہم تو اس خدا کو جانتے ہیں، اس صاحب جبروت کو جانتے ہیں کسی اور خدا کی خدائی کے قائل نہیں۔اس لئے احمدیوں کا سران ظالمانہ سزاؤں کے نتیجے میں جھکے گا نہیں بلکہ اور بلند ہوگا اور بلند ہو گا یہاں تک کہ خدا کی غیرت یہ فیصلہ کرے گی کہ دنیا میں سب سے زیادہ سر بلندی احمدی کے سر کو نصیب ہوگی کیونکہ یہی وہ سر ہے جو خدا کے حضور سب سے زیادہ عاجزانہ طور پر جھکنے والا سر ہے۔یہ جو دوبارہ باسی کڑھی میں ابال آرہا ہے اب میں اس کے پس منظر کے متعلق کچھ باتیں بیان کر کے احباب جماعت کو ان کی ذمہ دایوں کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔کچھ عرصے سے حکومت کی طرف سے نہایت جابرانہ اور ظالمانہ مخالفت میں کچھ کمی محسوس ہورہی تھی۔جیسے ایک آدمی تھک چکا ہو ایک ذلیل حرکت کرتے کرتے اور بالآخر اس کو چھوڑ رہا ہولیکن گزشتہ چند دنوں سے یہ ذلت اور یہ کمینگی پھر چمک اٹھی ہے۔باسی کڑھی میں جیسے ابال آتا ہے ویسے ہی ایک دوبارہ اس احمدیت دشمنی میں ایک نیا ولولہ پیدا ہور رہا ہے۔گورنر ز بیان دے رہے ہیں، وزرائے اعلیٰ بیان دے رہے ہیں ، جو کمی پیچھے رہ گئی تھی مارشل لاء کی طرف سے وہ اب ہم پوری کریں گے اور پہلے احمدیت نہیں مٹ سکی تھی تو اب ہم اسے مٹا کر چھوڑیں گے۔اس کی وجہ کیا ہے؟ آخر کیوں اچانک بیٹھے بیٹھے ان کو دوبارہ سیہ جوش اٹھا ہے؟ اس کی وجہ تو بڑی واضح ہے۔بات یہ ہے کہ ایک آمر جب بھی حکومت پر قبضہ کرتا ہے تو وہ جانتا ہے کہ اس سے اب پیچھے ہٹنے کی کوئی راہ نہیں ہے ، جانتا ہے کہ جب بھی وہ اترے گا اس کی گردن ان مظلوموں کے ہاتھ میں ہوگی جو پہلے اس کے ظلم کا نشانہ بن چکے ہیں۔اس لئے عملاً وہ یہ