خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 161
خطبات طاہر جلد ۵ 161 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۸۶ء یہ وہ پہلو ہے جو تعجب انگیز ہے اس لحاظ سے کہ دنیا بھر میں مقدمات ہوتے ہیں قتل ہو جاتے ہیں۔واقعہ بچے مقدمات میں سزائیں ملتی ہیں مگر ملکوں کے صدر کبھی اپنے نام کو ان باتوں میں ملوث نہیں کیا کرتے۔عدلیہ کارروائی ہوتی ہے بچی ہو یا جھوٹی ہولیکن ایک ملک کا صدرفخر سے یہ اعلان کرے کہ یہ جو قتل ہونے والے ہیں اس کا فیصلہ میں نے کیا ہے۔یہ بات نہ صرف عموماً تعجب انگیز ہے بلکہ اس لئے بھی کہ یہ فیصلہ کرنے والے کی دہریت کی علامت بتاتی ہے، دہریت سے پردہ اٹھاتی ہے۔دنیا کے نام پر مظالم کرنے والے بعض دفعہ خدا کے قائل بھی ہوتے ہیں تو غفلت کی حالت میں ظلم کر جایا کرتے ہیں مگر ایک شخض جو خدا کے نام پر ظلم کر رہا ہواور معصوم انسان کے متعلق قتل کا فیصلہ کر رہا ہو۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کو خدا پر ایمان ہو یا اس بات پر یقین ہو کہ وہ جوابدہ ہوگا قیامت کے دن۔جوابدہی کے تصور سے تو دنیا لرزتی ہے۔جتنے استبداد ہیں، دنیا میں جو قائم ہیں ،ان سب کی طاقت کا راز جوابدہی میں ہے۔جتنے ڈکٹیٹر دنیا پہ مسلط ہیں اور معصوموں کے خون بہا رہے ہیں یا انسانی حقوق چھین رہے ہیں ان کی طاقت کا راز اس بات میں ہے کہ اگر کوئی شخص ان کے خلاف اٹھنے کی کوشش کرے اس کو یہ پتہ ہے کہ خواہ وہ ظالم ہے خواہ اس کا حکومت کرنے کا حق نہیں بھی ہے تب بھی اس کے سامنے میں جوابدہ ہوں اور ایک صاحب استبداد کے سامنے، صاحب جبروت کے سامنے انسان جواب دہی سے ڈرتا ہے۔اس لئے کیسے ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ پر کامل یقین رکھتا ہو کوئی شخص جانتا ہو کہ مرنے کے بعد اس کی گردن خدا کے ہاتھوں میں ہوگی اور وہ ذوالانتقام ہے اور اس کی پکڑ سے کوئی دنیا کی طاقت نہیں بچا سکتی ، بڑے اور جھوٹے ہر ایک کی گردان اس کے ہاتھ میں ہے۔جو شخص اس کی جواب دہی کا یقین رکھتا ہو وہ آنکھیں کھول کر اتنا ظالمانہ بیبا کا نہ فیصلہ اس کے نام پر نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے بعد پھر اس کے بچنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔دنیا کے ظلم بعض دفعہ معاف بھی ہو جاتے ہیں۔انسان کے اندر جب پشیمانی ہو اور حیا پیدا ہوتو اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے لیکن خدا کے نام پر ظلم کرنے والے کے لئے بخشش کی کوئی راہ میں نہیں دیکھتا۔نہ مذہبی تاریخ میں اس قسم کی بخشش کا کوئی ذکر ملتا ہے اس لئے سوائے اس کے کہ کوئی شخص پوری طرح دلیر ہو چکا ہو خدا کے متعلق اور یہ جانتا ہو کہ کوئی خدا نہیں ہے۔جواب دہی نہیں ہے اس سے اوپر کوئی ہستی نہیں ہے۔اس وقت تک جب تک یہ صورت حال نہ ہو کوئی یہ فیصلہ نہیں کر سکتا ہے۔اس لئے جہاں