خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 154 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 154

خطبات طاہر جلد۵ 154 خطبه جمعه ۱۴ار فروری ۱۹۸۶ء پیش نظر رہے کہ اِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا۔ایک ایسی ذات بھی ہے۔جو ہر گھر میں ہے، ہر ذات میں ہے، ہر شخص کی رگ جان سے زیادہ قریب ہے اور وہ نگران ہے اس بات پر کہ تم اپنے ارحام کے حقوق ادا کر رہے ہو کہ نہیں۔جن مقاصد کے لئے شادی بیاہ کا نظام جاری کیا گیا ہے ان مقاصد کو پورا کر رہے ہو کہ نہیں کر رہے تو پھر ساری کیفیت بدل جاتی ہے۔پھر ہر سلوک اور عدم سلوک کے نتیجے میں انسان اپنے آپ کو ایک بالا ہستی کے حضور جوابدہ پاتا ہے اور اس ذمہ داری کے احساس سے اس کو بڑی فکر پیدا ہو جاتی ہے۔پس جب تک خدا کو حاضر ناظر جان کر ہم اپنے معاشرے کی اصلاح کی کوشش نہیں کریں گے اس معاشرہ کی اصلاح نہیں ہوسکتی۔کئی لوگ یہ کہتے ہیں جی آپ بہت ہی زیادہ بھیانک تصویر کھینچ رہے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ شاید میری ان باتوں سے غیر یہ فائدہ اٹھائے اور وہ سمجھے کہ نعوذ باللہ من ذلک احمدی خاندانوں کا یہ حال ہے جو میں یہ بھیانک نقشے کھینچتا ہوں اور گویا فرق کوئی نہیں۔ہر گز یہ بات نہیں ہے میں جانتا ہوں کہ احمدی معاشرے کا غیر احمدی معاشرے سے،اسلامی معاشرے کا غیر اسلامی معاشرے سے بڑا نمایاں فرق ہے لیکن موجودہ صورت میں جتنی معاشرتی خرابیاں ہمارے اندر پائی جاتی ہیں ہماری جماعت کے مقام اور مرتبہ کے لحاظ سے ہرگز قابل برداشت نہیں ہیں۔کسی قیمت پر بھی ہم ان کو ساتھ لے کر آگے نہیں بڑھ سکتے۔مستقبل کی نسلوں کو تباہ کرنے کے بیج بو دیئے گئے ہیں ان خرابیوں میں، آئندہ نسلوں کو اپنے ہاتھوں سے ضائع کرنے اور قتل کرنے کے سامان پیدا کر دیئے گئے ہیں۔پھر میں کس طرح اس خوف سے کہ دشمن نہ ہنسے ان باتوں کو چھپا کر بیٹھ جاؤں۔میں بھی تو جوابدہ ہوں اور آپ سب سے بڑھ کر اس لحاظ سے جوابدہ ہوں کہ ایک خاندان کی نہیں ساری جماعت کی ذمہ داری خدا نے میرے اوپر ڈالی ہے اور تمام جماعت کے حالات کے بارہ میں میں پوچھا جاؤں گا۔اس لئے کیسے میں ان باتوں کو چھپا سکتا ہوں۔میرا فرض ہے اور میں لازماً جب تک خدا مجھے توفیق دے گا اس فرض کو پورا کرتا رہوں گا کہ ہمارا معاشرہ دن بدن پہلے سے بہتر حالات میں داخل ہوتا چلا جائے۔حسن ہی اس میں نہ پیدا ہو بلکہ ہر آن بڑھنے والا حسن اس میں پیدا ہوتا کہ غیر جب اس معاشرے کو دیکھیں تو بے اختیار ان کے دل سے یہ آواز نکلے کہ