خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 150
خطبات طاہر جلد۵ 150 خطبه جمعه ۱۴ار فروری ۱۹۸۶ء خاندانی نظام کا فیض ہے کہ ہم بہت سی خرابیوں سے باز رہتے ہیں اور صرف ایک لذت کی پیروی کرنے کی بجائے متفرق کئی قسم کی لذتیں ہیں جو ہماری زندگی میں حاصل ہوتی رہتی ہیں۔ایک دفعہ جرمنی میں ایک عورت نے جو اسلامی معاشرے کو بڑی نفرت کی نظر سے دیکھتی تھی، بڑی شدت سے مجھ سے یہ سوال کیا کہ آپ کے ہاں جو معاشرہ قائم ہے اس میں کیا لذت رہ جاتی ہے ، قیدیں ، پابندیاں اور ہر لذت یابی سے محرومی یہ بھی کوئی معاشرہ ہے ؟ اس کے جواب میں میں نے اس کو اس طرف متوجہ کیا۔میں نے کہا ہمارا معاشرہ تو صلہ رحمی پر قائم ہے جس کے نتیجے میں صرف ایک لذت ہمیں نہیں ملتی بلکہ متفرق لذتیں نصیب ہوتی ہیں۔تمہیں اپنی تسکین خاطر کے لئے اب جنس کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا اور جنسی پیروی تمہاری اتنی آگے بڑھ چکی ہے، جنسی خواہشات کی پیروی اتنی آگے بڑھ چکی ہے کہ اب کوئی تمیز تمہاری باقی نہیں رہی۔بڑے نہیں تو چھوٹوں پر یہ ظلم کر کے تم اپنی اس جنسی تمنا کو پورا کرنے لگے ہو اور وہ ساری حدیں پھلانگ چکے ہو جو انسانیت اور حیوانیت کو الگ کرتی ہیں ایک دوسرے سے اور وہاں بھی تمہیں تسکین نہیں مل رہی۔کس معاشرے کی طرف تم ہمیں بلا رہی ہو۔میں نے کہا کہ اسلامی معاشرے میں صرف جنسی لذت نہیں ہے ماں اور بیٹے کی محبت کی بھی ایک لذت ہے اس کو وہ تقویت بھی دیتا ہے اس کی حفاظت کرتا ہے۔بہن اور بھائی کی محبت میں بھی ایک لذت ہے۔اسلامی معاشرہ اس کو تقویت بھی دیتا ہے اور اس کی حفاظت بھی کرتا ہے۔بیٹی اور باپ کے تعلق میں بھی ایک پیار پایا جاتا ہے، ایک لذت پائی جاتی ہے اور اس کا بھی اسلامی معاشرہ نگران ہے اور ان قدروں کو وہ آگے بڑھاتا ہے۔پھر ایک دوسرے کے رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات کے قیام کو فروغ دیتا ہے۔بیٹی جب بیاہی جاتی ہے تو پھر ایک ماں نہیں رہتی اسکی ، ارحام ہو جاتے ہیں، کئی قسم کے رحمی رشتہ دار اس میں زائد آجاتے ہیں اور خاوند کی ماں ، خاوند کا باپ ، خاوند کی بہنیں، خاوند کے دیگر عزیز جو اس کی ماں کے رحم کے نتیجے میں رشتے اس کو ملے ہیں وہ سارے اسکے رشتے دار بن جاتے ہیں۔اسی طرح خاوند کے ساتھ بھی معاملہ ہوتا ہے۔تو اس خاندانی نظام کو جس کی بنا صلہ رحمی پر ہے اسکو تقویت دینے کے نتیجے میں انسان بھوکا نہیں رہتا لذت کا اور جب وہ تنہائی محسوس کرے گا تو پھر پاگل نہیں ہوتا کیونکہ مغربی معاشرے میں