خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 8 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 8

خطبات طاہر جلد۵ 8 خطبہ جمعہ ۳ /جنوری ۱۹۸۶ء آسکتا کیونکہ پوری طرح کھل کر تو صفات باری تعالیٰ کسی فرد بشر پر ظاہر نہیں ہوسکتیں سوائے اس کے کہ اس کی استعدادوں کی حد کمال تک اس پر ظاہر ہوں اور اس پہلو سے صرف حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ ہیں جو انسانی استعدادوں کے لحاظ سے آخری حد تک خدا تعالیٰ کی صفات کو سمجھ سکے اور اُن کا عرفان حاصل فرمالیا۔تو بہر حال یہ محاورے چونکہ انسانی زبان کی کمزوریوں کے بھی مظہر ہیں اس لئے بعض دفعہ محاورہ استعمال کرتے وقت انسان سمجھتا ہے کہ خدا کے ذکر میں یہ پوری طرح صادق نہیں آتا تو وقتاً فوقتاً مجھے یہ غلط نہی جملہ معترضہ کے طور پر دور کرنی پڑتی ہے۔بہر حال جس حد تک بھی ایک انسان خدا تعالیٰ کی صفات حسنہ کو سمجھ سکتا ہے اسکو سمجھا جائے اور اس رنگ میں سمجھا جائے کہ دل متاثر ہواور طبیعت میں ہیجان پیدا ہو اور دل اچھلے خدا کی محبت میں اس صفت حسنہ کو دیکھ کر اور اسے پالینے کی تمنا دل میں پیدا ہو۔یہ سلسلہ جب شروع ہو دل میں تو اس وقت انسان خدا کی طرف حرکت کرنے کی کوشش شروع کر دیتا ہے۔اگر ان باتوں سے، ان گلیوں سے ، ان کو چوں سے کوئی واقف ہی نہ ہو تو محض یہ سننے سے کہ کوئی خدا کو پا گیا، کوئی خدا جیسا ہوگیا، کسی میں خدا جذب ہو گیا، کسی میں سر سے پاؤں تک نہاں ہو گیا ، یہ سن کر ایک روحانی لطف تو آجاتا ہے لیکن حقیقت حال میں صحیح معنوں میں انسان استفادہ نہیں کر سکتا۔اس لئے اب میں نے دوبارہ اسی سلسلہ کو ہاتھ میں لیا ہے جو بعض مجبوریوں کی بناء پر پیچھے چھوڑنا پڑا اور ممکن ہے کہ وقتافوقتاً پھر انقطاع کرنا پڑے لیکن جہاں تک بھی خدا توفیق عطا فرمائے گا انشاء اللہ اس سلسلہ کو آئندہ جاری رکھا جائے گا۔خدا تعالیٰ کی صفات میں قدیر ایک بکثرت استعمال ہونے والی صفت ہے جس کا قرآن کریم میں ذکر آتا ہے اور اس کی دوسری شکلیں بھی ہیں جو قرآن کریم کی مختلف آیات میں ملتی ہیں۔ایک ان میں قادر ہے اور ایک مقتدر۔میں نے ان تین صفات کا جو ایک دوسرے کے ساتھ تعلق رکھنے والی صفات ہیں اس پہلے خطبہ کے لئے انتخاب اس لئے کیا ہے کہ یہ جماعت احمدیہ کے لئے ایک نیک شگون بھی بن جائے۔ہم خدائے قدیر کے نام سے نئے سال کا آغاز کریں، خدائے قادر کے نام سے نئے سال کا آغاز کریں اور خدائے مقتدر کے نام سے نئے سال کا آغا ز کریں اور ان صفات کو پوری طرح سمجھ کر اپنی دعاؤں میں انہیں کثرت سے استعمال کریں اور اپنی ذات میں جس حد تک