خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 124
خطبات طاہر جلد۵ 124 خطبہ جمعہ ۷ فروری ۱۹۸۶ء کرواتا ہے اور اچھی باتوں سے بھی اسی طرح محروم کر دیتا ہے۔اس لئے اس پر نگاہ رکھنی چاہئے اور تعلق کو جہاں تک ممکن ہو نبھانا چاہئے۔چھوٹی چھوٹی ادنی اردنی باتوں پر تعلقات کو منقطع نہیں کرنا چاہئے۔دراصل ایسی باتیں جو ہمارے معاشرے کو خراب کر رہی ہیں ان کی بنیادی وجہ تکبر ہے۔تکبر ایک ایسی چیز ہے جو اتنے بھیس بدل کر انسان میں آتا ہے کہ بسا اوقات انسان اس کو پہچان نہیں سکتا۔سب سے زیادہ خطرناک تکبر نیکی کا تکبر ہوتا ہے اور جو کچھ اپنے پاس ہے اس کے نتیجے میں انسان جس کے پاس وہ چیز نہیں ہے اس کے خلاف بڑے بول بولنے لگتا ہے، اس کو طعنے دینے لگ جاتا ہے۔اور جو باتیں انسان کے پاس نہیں ہوں ان میں کسی قدرا نکسار دکھاتا ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انکسار کہتے ہی اس چیز کو ہیں کہ کچھ ہو اور پھر انسان انکسار دکھائے۔اس کی بہت سی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔معاشرے میں تو بالعموم قانون کی طرح یہ بات کارفرما ہے کہ بہت سے فساد دنیا میں نیکی کے تکبر کے نتیجے پر ہوتے ہیں۔مثلاً ایک شخص اگر نمازی ہے تو وہ غیر نمازی کو اتنی بری آنکھ سے دیکھتا ہے کہ گویا اس سے بڑا کوئی نقص ہی دنیا میں نہیں ہو سکتا اور ہوسکتا ہے وہ خود لین دین میں اتنا کمزور ہو کہ وہ لوگوں کے مال بھی کھا رہا ہو، حرام خوری کر رہا ہو ، رشوتیں بھی لے رہا ہو لیکن نماز چونکہ پڑھ رہا ہے اس لئے وہ سمجھتا ہے کہ نماز سے بڑھ کر نیکی اور کوئی نہیں اور جو غیر نمازی ہے وہ تو ہے ہی جہنمی۔چنانچہ بے نمازوں کے ساتھ وہ نہایت ہی درشتی سے پیش آتا ہے ان کو بری نظر سے دیکھتا ہے، ان کو اپنے سے ادنیٰ سمجھتا ہے۔اور ایسے خاوند اپنی بیویوں سے زیادتی کر رہے ہوتے ہیں بظاہر نیکی کے معاملے میں اور ایسے باپ اپنے بچوں سے سختیاں کر رہے ہوتے ہیں بظاہر نیکی کے نام پر۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ان کے دوسرے مزاج ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ محض نیکی کا تکبر تھا۔نیکی سے محبت نہیں تھی کیونکہ اگر نیکی سے محبت ہوتی تو باقی باتوں میں بھی وہ نیک ہوتے۔اپنا نقص جہاں ہے وہاں انسان نرمی دکھا دیتا ہے۔ایک آدمی لین دین کے معاملے میں بالکل صاف ہے وہ بڑے زور زور سے حملے کرتا ہے دوسرے انسان پر لیکن دوسری بدیاں اس میں موجود ہیں ان سے وہ چشم پوشی کر لیتا ہے۔غرضیکہ ہر جگہ نیکی کا تکبر دنیا میں بہت سے فسادات پھیلانے کا موجب بن جاتا ہے۔بڑے بڑے پادریوں کے واقعات آپ کو تاریخ میں ملیں گے ان میں بعض نیکیاں پائی جاتی تھیں جن کو بڑے ظالمانہ طور پر انہوں نے اپنے معاشرے میں نافذ کرنے