خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 7
7 خطبه جمعه ۳ /جنوری ۱۹۸۶ء خطبات طاہر جلد۵ کے وہ بندے جو اپنے وجود کو خدا کی ذات میں پوری طرح گم کر دیتے ہیں اور اپنے نفس کا کوئی بھی حصہ، کوئی بھی ملونی باقی نہیں رہنے دیتے ایسے بندوں پر خدا کی صفات جلوہ گر ہو جاتی ہیں اور جب وہ کامل طور پر اپنے اس بندے کو ڈھانپ لیں اور اس شدت کے ساتھ اس میں رچ بس جائیں کہ گویا اس کا اپنا وجود ختم ہو گیا تو ایسی صورت میں وہ بندہ خدا کا نمائندہ بن جاتا ہے۔اس کا بولنا خدا کا بولنا ہو جاتا ہے،اس کا دیکھنا خدا کا دیکھنا ہو جاتا ہے، اسکا سنناخدا کا سننا ہو جاتا ہے،اس کا چلنا خدا کا چلنا ہو جاتا ہے، اس کا اٹھنا خدا کا اٹھنا اور اس کا بیٹھنا خدا کا بیٹھنا ہو جاتا ہے۔یہی وہ محاورے ہیں جو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ علیہ نے صفات باری تعالیٰ کے بیان میں استعمال فرمائے اور خدا کے مومن بندوں کی مثال بعینہ اسی طرح پیش فرمائی کہ اُن کا اٹھنا بیٹھنا دوڑ نا چلنا پھرناسب خدا کا ہو جاتا ہے۔تو یہ کیسے ہوتا ہے جب تک ہم اس نظارے کو قریب سے نہ دیکھیں جب تک ہم ان حالات سے واقف نہ ہوں اس وقت تک یہ محض دور کی باتیں ہیں محض ایک ذہنی تعیش ہے کہ کچھ لوگ ایسے تھے جو نعوذ باللہ من ذالک دنیا کی نگاہ میں خدا ہو گئے لیکن فی الحقیقت وہ خدا جیسے ہو گئے ان معنوں میں کہ انہوں نے خدا کی ہر صفت کو اپنی ہر صفت پر غالب کر دیا اپنے وجود کو خدا تعالیٰ کی ذات معلوم کی خاطر مٹا دیا۔اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم صفات باری تعالیٰ پر غور کریں اور یہ کریں کہ ایک لمحہ میں اچانک کوئی انسان خدا جیسا نہیں بن سکتا اور ہر انسان خدا کی ہر صفت میں اس شدت کے ساتھ خدا جیسا نہیں بن سکتا جیسے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو ایک امتیازی شان حاصل ہوئی مگر اس مضمون کو سمجھنے کے بعد ہم رفتہ رفتہ مختلف جہتوں سے خدا کی سمت میں حرکت کر سکتے ہیں مضمون کو زیادہ بہتر سمجھ سکتے ہیں جس کا ذکر قرآن کریم میں فَفِرُّوا إِلَى اللهِ (الذاریات: ۵۱) کے الفاظ میں آیا ہے اللہ کی طرف دوڑو۔یہ آیات آپ بار ہا تلاوت کرتے ہیں لیکن سمجھ میں نہیں آتی کہ پھر خدا کی طرف کیسے دوڑیں۔پس صفات باری تعالیٰ کا بیان جب پوری طرح کھل کر ذہن نشین ہو جائے میری مراد یہ ہے کہ جس حد تک بھی انسان اپنی استطاعت رکھتا ہے کہ اس کے ذہن نشین خدا تعالیٰ کی صفات کا بیان ہو جائے۔پوری طرح کھل کر کا جو محاورہ میں نے استعمال کیا ہے وہ پوری طرح صادق نہیں