خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 123
خطبات طاہر جلد ۵ 123 خطبہ جمعہ ۷ فروری ۱۹۸۶ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طلاق کو جائز ہونے کے باوجو دسب سے زیادہ نا پسند فرماتے تھے۔آپ فرماتے تھے کہ اللہ کے نزدیک سب حلال چیزوں میں سب سے زیادہ مبغوض چیز طلاق ہے ( ابوداؤد کتاب الطلاق حدیث نمبر: ۱۸۶۲) سب سے زیادہ نا پسندیدہ چیز طلاق ہے تمام حلال چیزوں میں ایک موقع پر ایک شخص آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میری بیوی نشوز کرتی ہے اور یہ کرتی ہے اور وہ کرتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ پھر اس کو طلاق دے دو۔اس نے پھر عرض کی یارسول اللہ میرے بچے بھی ہیں۔آپ نے فرمایا: دیکھو ٹہر بچے بھی ہیں۔پھر تمہیں اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔کوشش کرو جس حد تک بھی ممکن ہے اصلاح احوال ہو جائے۔(ابوداؤد کتاب الطہارہ حدیث نمبر (۱۴۲) اس سے پتہ چلتا ہے کہ طلاق جب بچے ہو جائیں تو اور بھی زیادہ نا پسندیدہ ہو جاتی ہے۔جن حالات کو سن کر آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا ہے ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم براہ راست اس عورت سے واقف تھے ورنہ یک طرفہ بات سن کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فیصلے نہیں دیا کرتے تھے۔یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ ایک طرف کی بات سنتے جبکہ حالات کا خود علم نہ ہوتا اور آپ فیصلہ صادر فرما دیتے۔اس لئے وہ معروف عورت تھی ، اس کے اندر کوئی کبھی ہوگی ، کوئی ایسی بات ہوگی جس کے نتیجے میں آپ نے خاوند کو حق پر سمجھا لیکن جب بچوں کا خیال آیا تو پھر فیصلے کو بدل دیا اور فرمایا کہ دیکھو! نصیحت کرو اور حتی المقدور اصلاح کی کوشش کرو۔اس لئے بچوں کی حالت میں تو طلاق بہت ہی زیادہ احتیاط کا تقاضا کرتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی طلاق میں جلدی کو سخت نا پسند فرماتے تھے۔ایک موقع پر ایک شخص کا معاملہ پیش کیا گیا کہ اس نے اپنی بیوی کو یہ لکھا ہے کہ اگر وہ بدیدن خط اس کی طرف روانہ نہ ہوگی تو اسے طلاق دے دی جاوے گی۔یعنی اس زمانہ میں ایسے ایسے بھی بوالعجب لوگ ہوا کرتے تھے کہ یہ خط لکھا بیوی کو کہ میرا خط دیکھتے ہی اگر میری طرف روانہ نہ ہوگئی تو طلاق ہوگئی۔سنا گیا ہے کہ اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا جو شخص اس قدر جلدی قطع تعلق کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو ہم کیسے امید کر سکتے ہیں کہ ہمارے ساتھ اس کا پکا تعلق ہے۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ : ۳۴۵) کیسی حکمت کی بات ہے، کیسی گہری بات ہے۔جو شخص اپنی بیوی سے قطع تعلقی کرنے میں جلدی کرتا ہے یا بیوی خاوند سے ایسے لوگوں کا مزاج ان کو نیکوں سے قطع تعلق کرنے میں بھی جلدی