خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 118
خطبات طاہر جلد۵ 118 خطبہ جمعہ ۷ فروری ۱۹۸۶ء قدر بداثر پڑنے کی امید ہے۔مرد کو چاہئے کہ اپنے قومی برمحل اور حلال موقع پر استعمال کرے۔“ یہ قوام کی مزید تفسیر ہے یہ غور سے سننے والی۔پہلے خود متوازن ہو، پہلے خود معتدل ہو، اپنے جذبات کو برمحل استعمال کرنا سیکھے۔فرمایا: فرماتے ہیں: تو اس قدر بد اثر پڑنے کی امید ہے کہ مرد کو چاہئے کہ اپنے قومی کو برمحل اور حلال موقع پر استعمال کرے مثلاً ایک قوت غضبی ہے جس پر وہ اعتدال سے زیادہ ہو تو جنون کا پیش خیمہ ہو جاتی ہے۔جنون میں اور اس میں بہت تھوڑا فرق ہے۔جو آدمی شدید الغضب ہوتا ہے اس سے حکمت کا چشمہ چھین لیا جاتا ہے۔“ (ملفوظات جلد سوم صفحہ : ۱۵۷) بہت ہی اہم معاملہ ہے جو شخص شدید الغضب ہوتا ہے اس سے حکمت کا چشمہ چھین لیا جاتا ہے۔بلکہ اگر کوئی مخالف ہو تو اس سے بھی مغلوب الغضب ہو کر گفتگو نہ کرے۔“ تبلیغ کے دوران بھی یہ بہت ہی اہم گر ہے۔جب کوئی گالی گلوچ شروع کر دے،ایسی غلط زبان استعمال کرے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یا اور رنگ میں جماعت کے خلاف تو خاموش ہو کر اس مجلس سے اٹھ آنا بہتر ہے کیونکہ مغلوب الغضب حالت میں انسان اس بات کا بھی اہل نہیں رہتا کہ کسی کو سچا پیغام پہنچا سکے۔” مرد کی ان تمام باتوں اور اوصاف کو عورت دیکھتی ہے۔وہ دیکھتی ہے کہ میرے خاوند میں فلاں فلاں اوصاف تقوی کے ہیں جیسے سخاوت حلم ،صبر اور جیسے اسے پر کھنے کا موقع ملتا ہے وہ کسی دوسرے کو نہیں مل سکتا اس لئے عورت کو سارق بھی کہا ہے کیونکہ یہ اندر ہی اندرا خلاق کی چوری کرتی رہتی ہے حتی کہ آخر کار ایک وقت پورا اخلاق حاصل کر لیتی ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ: ۱۵۷) پھر فرمایا: 3-