خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 6 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 6

خطبات طاہر جلد۵ 6 خطبه جمعه ۳ / جنوری ۱۹۸۶ء سرسے لے کر پاؤں تک وہ یار ہے مجھ میں نہاں تو اس کا کیا مطلب ہے، کیسے خدا تعالیٰ کسی بندے کے سر سے پاؤں تک اس میں نہاں ہو سکتا ہے۔جب ہم قرآن کریم میں یہ پڑھتے ہیں کہ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلكِنَّ اللهَ رَمی (الانفال: ۱۸) کہ اے محمد اعتا اللہ تو نے وہ مٹھی کفار کی طرف نہیں پھینکی یعنی کنکریوں کی وہ مٹھی نہیں چلائی کفار کی طرف جو تو نے چلائی تھی بلکہ خدا نے وہ مٹھی چلائی تھی۔جب ہم قرآن کریم میں یہ پڑھتے ہیں کہ يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ (الفتح: 1) کہ وہ جو محمد مصطفی علی کی بیعت کر رہے ہیں ان پر محمد مصطفی ﷺ کا ہاتھ ہے مگر وہ محمد مصطفی " کا ہاتھ نہیں بلکہ خدا کا ہاتھ ہے تو اس سے کیا مراد ہے؟ آنحضرت علی تو توحید کے گن گانے پر وقف تھے، کبھی دنیا میں ساری کائنات میں خدا کی وحدت کے ایسے عشق کے ساتھ ایسی محبت کے ساتھ ، ایسی فدائیت اور وارنگی کے ساتھ کسی نے خدا کی توحید کے گیت نہیں گائے جیسے حضرت اقدس محمد مصطفی علی اللہ نے گائے کبھی نبیوں کی کسی جماعت کو تو حید کے قیام کے لئے ایسی عظیم الشان خدمت اور ایسی عظیم الشان اور وسیع قربانیوں کی توفیق نہیں ملی جیسے ان لوگوں کو جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے الله مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَةَ (الفتح:۳۰) محمد مصطفی ہے ان کو بھی دیکھو کس شان کے نبی ہیں اور ان کو بھی دیکھو جو ان کی وجہ سے شان اختیار کر گئے وَالَّذِيْنَ مَحَلَّ ان کے رنگ پکڑ گئے۔یہ سب کیا معنی رکھتا ہے؟ جب یہ بھی ساتھ کہا جائے کہ محمد جو رسول اللہ ہیں ان کا ہاتھ تمہارے ہاتھ پر نہیںاللہ کا ہاتھ تمہارے ہاتھ پر ہے۔بظاہر تو یہ تضا معلوم ہوتا ہےلیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ صفات باری تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھنے والا مضمون ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کو مختلف تحریرات میں نہایت ہی عارفانہ رنگ میں حل فرماتے ہیں اور ایک مثال یہ دیتے ہیں کہ جب لوہا آگ میں پڑتا ہے تو پہلے تو وہ تپتا ہے لیکن اس کا رنگ نہیں بدلتا بظا ہر اس کی شکل وہی رہتی ہے جو پہلے تھی۔صرف تم اس کی گرمی کو محسوس کرتے ہو لیکن پھر ایک ایسی حالت اس پر طاری ہو جاتی ہے کہ بالآخر اس کا اپنا کوئی وجود باقی نہیں رہتا بلکہ وہ آگ کی سیرت ہی نہیں آگ کی صورت بھی اختیار کر جاتا ہے۔لوہا ہوتے ہوئے بھی وہ گویا ایک آگ کا منظر پیش کرتا ہے۔آگ کی تصویر بن جاتا ہے، آگ کا وجود بن جاتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ