خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 113 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 113

خطبات طاہر جلد۵ 113 خطبہ جمعہ سے فروری ۱۹۸۶ء گھروں کے حالات درست کرنے کی کوشش کریں اور اس کے لئے کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں۔ہر مرد ذمہ دار ہے سب سے پہلے کہ وہ اپنے اخلاق درست کرے۔ہر عورت ذمہ دار ہے کہ وہ اپنے اخلاق درست کرے۔پہلی نسل کے جو لوگ ہیں ، بڑی نسل کے لوگ ذمہ داری وہاں سے شروع ہوتی ہے۔پھر آگے اپنے بچوں کو اپنی بہوؤں کو ، اپنے دامادوں کو ، اپنے بیٹوں کو اور بیٹیوں کو ان کو بھی ویسے ہی اخلاق سکھانے کی کوشش کی جائے۔یہ مضمون جوروزمرہ کے معاملات کا گھروں میں کیا ہوتا ہے؟ کیسے اخلاق بگڑتے ہیں؟ کیسے اخلاق بنتے ہیں؟ بہت وسیع مضمون ہے۔میں نے آج کے خطاب کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند اقتباسات چنے ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جیسا کہ باریک نظر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا ہوئی اس دور میں ویسی کسی اور کونصیب نہیں ہوئی اور آپ کسی ایک طرف کی بات نہیں کیا کرتے تھے کیونکہ آپ کو خدا نے حکم و عدل بنایا تھا۔آپ کا مزاج نرم تو تھا مگر ایسا نہیں کہ کسی ایک لڑکی کے رونے دھونے پر ساسوں کے خلاف ہی سخت فتوی دے دیں یا کسی ایک ماں کے رونے دھونے پر بہوؤں کے خلاف فتوے دے دیں۔خالصہ قرآن اور سنت پر مبنی مزاج تھا جس کے نتیجے میں آپ کے مزاج سے ہر بات درست صادر ہوتی تھی۔اس لئے بہت ہی اہم ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے اقتباسات پر آپکے ارشادات پر غور کریں اور ان کی روشنی میں اپنے گھروں کے حالات کو درست کرنے کی کوشش کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”والدہ کا حق بہت بڑا ہے اور اس کی اطاعت فرض۔مگر پہلے یہ دریافت کرنا چاہئے کہ اس کی ناراضگی کی تہہ میں کوئی اور بات تو نہیں۔“ یہ جواب ایک ایسے استفسار کے نتیجے میں آپ نے دیا جس میں یہ پوچھا گیا تھا کہ میری والدہ میری بیوی سے ناراض ہے اور مجھے طلاق کے واسطے حکم دیتی ہے۔اب یہ واقعات روز مرہ ہمارے معاشرے میں ملتے ہیں۔ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئیے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: وو والدہ کا بہت بڑا حق ہے اس کی اطاعت فرض ہے مگر پہلے یہ دریافت کرنا چاہئے کہ آیا اس ناراضگی کی تہ میں کوئی اور بات تو نہیں ہے جو خدا