خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 112
خطبات طاہر جلد۵ 112 خطبہ جمعہ ۷ فروری ۱۹۸۶ء چاہیں اس کو کروٹ بدل کر دیکھ لیں کسی بھی حیثیت سے کوئی قوم دنیا میں ابھری ہو یا موجود ہو۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی میں اگر وہ نہیں تو لازماً اس کے اخلاق میں کئی بنیادی نقائص نظر آئیں گے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا، یہ ایک ناممکن بات ہے، زمین و آسمان الٹ پلٹ سکتے ہیں مگر یہ حقیقت نہیں بدل سکتی کہ اخلاق کا ملہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیکھے جاسکتے ہیں اور وہ قومیں جو آپ سے وابستگی سے محروم ہیں خواہ کسی ازم کے ساتھ ان کا تعلق ہو، کسی مذہب سے تعلق ہو ان کے اندر لا ز ما بنیادی اخلاقی نقائص نظر آئیں گے۔پس ہم نے جب یہ دعویٰ کیا کہ ہم آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام اور حقیقی غلام ہیں تو اگر ہم اس دعویٰ میں سچے ہیں تو ساری دنیا کے اخلاق درست کرنے کا دعویٰ کیا ہے، ساری دنیا کے لئے نمونہ بننے کا دعویٰ کیا ہے اور اس پہلو سے بہت ہی عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔کسی کو یہ توفیق نہیں ملنی چاہئے کہ کسی احمدی کے خلق پر انگلی اٹھا کر دکھا سکے کہ اس میں یہ بھی ہے اور یہ بدی ہے۔کسی غیر احمدی کے تصور میں بھی نہیں یہ بات آنی چاہئے خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلم ہو کہ مجھے حق پہنچتا ہے کہ میں کسی احمدی کے متعلق جائز شکایت کروں۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ بعض اوقات بہت ہی تکلیف ہوتی ہے یہ معلوم کر کے کہ بعض احمدیوں نے بعض غیر احمدیوں سے بدخلقی کی بعض غیر مذاہب والوں سے بدخلقی کی، ان کے جائز حقوق دبائے ، ان کے ساتھ زیادتیاں کیں، ناانصافیاں کیں۔بعض دفعہ ان کا تعلق نہیں بھی ہوتا جماعت احمدیہ سے تب بھی مجھے خط لکھتے ہیں اور جب میں تحقیق کرواتا ہوں تو یہ معلوم کر کے بہت ہی تکلیف پہنچتی ہے کہ شکایت کنندہ درست تھا۔لین دین کے معاملات، دیگر معاملات کے علاوہ عام حسن خلق کے معاملے میں بھی بعض کمزوری دکھا جاتے ہیں۔جلسوں کے موقع پر اجتماعات کے موقع پر تو یہ تمام باتیں جو بظاہر عوامی باتیں ہیں جن کا باہر کی دنیا سے تعلق ہے۔اگر آپ غور کریں تو ان خرابیوں کا آغا ز گھروں میں ہوتا ہے۔ماؤں کی کوکھ میں ہی جہنم بھی بن رہی ہوتی ہے اور جنت بھی بن رہی ہوتی ہے۔گھروں ہی میں جرائم بھی پل رہے ہوتے ہیں اور جرائم کے انسداد کے لئے اصلاحی حالات بھی پیدا ہور ہے ہوتے ہیں۔گھروں سے اچھل کر جب چیزیں باہر گلیوں میں جاتی ہیں تو شہروں کو بد بھی بنا دیتی ہیں اور شہروں کو اچھا بھی کر دیتی ہیں۔اس لئے گھروں کی طرف بہت ہی ضرورت ہے کہ ہم توجہ دیں اور بڑی تفصیل کے ساتھ