خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 5
خطبات طاہر جلد ۵ 5 خطبه جمعه ۳ /جنوری ۱۹۸۶ء بلکہ بکثرت لوگوں نے اسے قبول بھی کیا اور آج تک وہاں آثار باقیہ بھی ملتے ہیں ان احمدی مسلمانوں کے اور ہنگری میں جو بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں وہ سارے جانتے ہیں کہ احمد بیت کیا ہے اور ان کے جو شعبے ہیں تعلیم کے اُن میں بھی احمدیت کے متعلق نہ صرف پوری واقفیت پائی جاتی ہے بلکہ وہ مزید چھان بین بھی کر رہے ہیں اس کے متعلق اور بعض احمدیوں سے جو پرانے ہنگری میں ہمارے کام کرنے والے تھے حکومت کی طرف سے یہ درخواست بھی پہنچی ہے احمدیوں تک کہ ہمیں مزید معلومات مہیا کی جائیں کیونکہ ہم ہنگری کی تاریخ میں جماعت احمدیہ نے جو کردار ادا کیا ہے اس کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔بہر حال انقلاب اشتراکیت کے بعد جو احمدی وہاں سے بھاگے اور لوگوں کے ساتھ وہ بہت حد تک جنوبی امریکہ میں مختلف ملکوں میں آباد ہوئے اور رابطہ اگر چہ عموماً تو کٹ گیا لیکن کبھی کبھی ان میں سے کوئی چھٹی لکھ دیتا تھا قادیان یا پتہ کر کے ربوہ اور وہ تحریک جدید کے دفا تر تک پہنچ جایا کرتی تھی۔اس سے ان کے ساتھ رابطہ کی ایک صورت بن جاتی تھی۔تو بہر حال Officialy رسمی طور پر با قاعدہ مشن کا آغاز گزشتہ سال ہوا ہے اور امسال خدا تعالیٰ کے فضل سے مستقل بنیادوں پر مشن قائم کرنے کے لئے اور مسجد بنانے کے لئے زمین حاصل کر لی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ کا بے حداحسان ہے اور میں توقع رکھتا ہوں کہ یہ بارش کا پہلا قطرہ بہت دیر تک پہلا ایک ہی قطرہ نہیں رہے گا بلکہ بکثرت ایک موسلا دھار فضلوں کی بارش میں تبدیل ہو جائے گا۔یہ آیات جن کا میں نے انتخاب کیا ہے یہ تمام کی تمام خدا تعالیٰ کی صفت قدیر سے تعلق رکھنے والی آیات ہیں۔گزشتہ چند سال پہلے غالباً دو تین سال پہلے یا اڑھائی سال پہلے میں نے ربوہ میں خطبات کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا جس کا تعلق صفات باری تعالیٰ کے بیان سے تھا اور ایک کے بعد دوسری خدا تعالیٰ کی کوئی صفت چن کے قرآن کریم اور احادیث اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات اور فرمودات کی روشنی میں خدا تعالیٰ کی صفات کا بیان کرتا تھا۔مقصد یہ تھا کہ جب جماعت احمدیہ کو یہ کہا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہو جاؤ تو اس کا صحیح مفہوم بھی جماعت احمد یہ سمجھ سکے کہ یہ رنگ ہیں کیا اور ان میں رنگین کیسے ہوا جا سکتا ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: