خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 981
خطبات طاہر جلدم 981 خطبه جمعه ۱۳؍ دسمبر ۱۹۸۵ء ضمون تو ہمیشہ جاری رہے گا اور تمام سمندر بھی خشک ہو جائیں تب بھی سورۃ فاتحہ کے معارف کا احاطہ نہیں کر سکتے اس لئے ہر دور میں اس کے نئے نئے مطالب کی طرف انسان کی توجہ پھرتی رہے گی۔اور ہر نمازی کو ، ہر نمازی کو میں پھر تکرار سے کہتا ہوں کہ اگر وہ نماز میں سورہ فاتحہ پر بھی غور کرے تو ہر رکعت میں ، ہر آیت میں نئے مطالب نظر آنے شروع ہوں گے جو اس کی اپنی کیفیات اپنی حالتوں کے مطابق ہوں گے اور یہ اتنا وسیع مضمون ہے کہ ہر انسان جو سورہ فاتحہ کو ادا کرتا ہے اس کے ظرف کے مطابق اس کے معانی میں کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرور ہوگی اس لئے اگر ارب ہا ارب انسان بھی سورۃ فاتحہ پر غور کریں گے تو ان کے ظرف میں سورہ فاتحہ کے جو معانی جھلکیں گے۔وہ دوسرے انسانوں سے کسی نہ کسی پہلو سے ضرور مختلف ہوں گے۔بہر حال یہ جو کوشش ہے کہ جو انسان نماز میں پڑھے اس میں ڈوبنا شروع کرے اس پر غور کرنا شروع کرے تو اس سے نمازوں کی کیفیت میں بہت ہی زیادہ حسن پیدا ہو جاتا ہے اور انسان کو اللہ تعالیٰ نئے نئے عرفان عطا فرماتا چلا جاتا ہے۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ) کی دعا خصوصیت کے ساتھ نماز کوسیدھا کرنے اور نماز کو درست کرنے میں مددگار بنتی ہے۔اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ) کی دعا سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جو صراط ہم مانگ رہے ہیں وہ نماز ہی میں سے ہوکر گزرتی ہے۔وہ راستہ جس پر سارے انعام پڑے ہیں وہ نماز ہی کا راستہ ہے اور جب تک ہم نماز کی راہ پر چل کے ان انعامات کو پانے کی کوشش نہیں کریں گے محض ایک خوابوں کی دنیا میں بس رہے ہوں گے، حقیقت میں وہ انعام ہمیں کبھی بھی میسر نہیں آ سکتے۔اس مضمون پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ کیوں نماز کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کو ضروری قرار دیا۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں انعام پانے والوں کے رستے جو معین کئے گئے قرآن کریم سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ان میں چار انعامات، چار مراتب نصیب ہوتے ہیں۔پہلا مرتبہ صالحیت کا ہے، دوسرا شہادت کا ، تیسرا صدیقیت کا اور چوتھا نبوت کا۔تو نماز جس حد تک درست ہوگی اور سنورے گی اس حد تک انسان درجہ بدرجہ ان مراتب کے قریب ہوتا چلا جائے گا یا ان کو پاتا چلا جائے گا۔پس یاد رکھیں اگر آپ کی نماز صالح نہیں ہے تو آپ اس رستے پر نہیں چل رہے جس پر صالحیت کا انعام پڑا ہوا ہے۔نماز صالح ہوگی تو آپ صالح کہلائیں گے۔اگر نماز فاسد رہے گی تو وہ