خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 976
خطبات طاہر جلدم 976 خطبه جمعه ۱۳ر دسمبر ۱۹۸۵ء کوشش کرتا رہے گا لیکن سوال یہ ہے کہ پھر وہ کیا طریق ہیں جن کے ذریعہ ہم اپنی نمازوں کو درست کریں اور جن کے ذریعہ ہماری نمازوں کا قبلہ درست ہو جائے؟ اس کے لئے نماز سے باہر حل تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے خودنماز کے اندران مسائل کا حل موجود ہے۔وہ شخص جو نیک نیتی سے اللہ تعالیٰ کی جانب اپنی تو جہات مرکوز کرنی چاہتا ہے جو دیانت داری سے کوشش کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری حاجات اور میری مناجات اور میری آرزؤں اور امنگوں کا قبلہ بن جائے ایسے شخص کے لئے خود نماز میں وہ نظام موجود ہے جو اس کے قبلہ کو درست کرتارہتا ہے اور اس کا قبلہ درست کرنے میں اس کا مددگار بنتا ہے۔سب سے پہلے سب سے اہم بات جو قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اللہ اکبر کی اتنی تکرار کیوں ہوئی اور کیوں نماز کے ہر موڑ پر ہمیں اللہ اکبر کہنے کی ہدایت ہوئی ؟ آغاز پہ بھی اللہ اکبر اور پھر ہر حرکت جو نماز میں کی جاتی ہے۔سوائے سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَه یا آخری السلام علیکم کے، وہ تو نماز سے باہر لے جانے والی ہے۔اس لئے اس کا تعلق نہیں۔سمع اللہ لمن حمدہ کی ایک مختلف صدا کے علاوہ ہر حرکت پر اللہ اکبر کی صدا بلند کرنے کا حکم ملتا ہے۔وجہ یہ ہے کہ اللہ اکبر قبلہ نما ہے۔اللہ اکبر یہ بتاتا ہے کہ تمہارا قبلہ کس طرف تھا اور تمہیں کس طرف منہ کرنا چاہیئے کیونکہ انسان کی نماز میں جو مختلف وساوس اس کی توجہ پھیرتے ہیں، مختلف خیالات جو اس کا رخ خدا سے ہٹا کر دوسری چیزوں کی طرف بدل دیتے ہیں وہ کئی قسم کے ہیں مثلاً تفکرات ہیں۔اب تفکرات کا تو منافقت سے کوئی تعلق نہیں۔ہر انسان کو تفکرات لگے ہوتے ہیں لیکن فرق صرف یہ ہے کہ جو دنیا دار ہیں اور بہت ہی ابتدائی مبتدی ہیں یعنی بہت ہی شروع کے راہ چلنے والے ان کے تفکرات زیادہ تر دنیا کے تفکرات ہوتے ہیں۔نماز پر جگہ جگہ تفکرات پہرے لگا دیتے ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ مبذول کرنے سے روکتے رہتے ہیں اور جو خدا کے زیادہ پاک بندے ہوں جو زیادہ اس راہ میں آگے چلنے والے ہوں ان کو بھی بعض دفعہ تفکرات پریشان کرتے ہیں۔یہاں تک کہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی بعض اوقات نماز کے دوران عبادت کے دوران تفکرات آکر گھیر لیتے تھے لیکن وہ تفکرات دین کے تفکرات تھے، وہ اللہ کے غم تھے، اللہ کے راستے کی فکریں تھیں۔پس انسان بہر حال انسان ہے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں توجہ مرکوز کرنے ،