خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 958 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 958

خطبات طاہر جلدم 958 خطبه جمعه ۶ ؍دسمبر ۱۹۸۵ء رہا ہے تو یہ ساری چیزیں بے معنی ہو جائیں گی وہی الفاظ آپ زندگی میں کروڑوں دفعہ بھی دہرائیں تو ان کے کوئی معنی نہیں ہوں گے یعنی مطلب سمجھنے کے باوجود بھی وہ نتیجہ خیز نہیں ہوں گے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی طرف بار بار توجہ دلاتے ہیں اور وصال نہ ہونے کی دوا بھی بتاتے ہیں۔وصال کیسے نصیب ہوتا ہے؟ اس کا علاج کیا ہے اگر نصیب نہ ہو تو ؟ فرماتے ہیں : جب تک خدا کسی کو پاک نہ کرے کوئی پاک نہیں ہوسکتا اور جب تک وہ خود وصال عطا نہ کرے کوئی وصال کو حاصل نہیں کر سکتا“۔پس ان معنوں کی رو سے احسان کا ایک اور معنی بھی سمجھ آگیا کہ کیوں اسے احسان کہا گیا ؟ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لقاء کا نام احسان بیان فرمایا ہے۔اس کا ایک عارفانہ نکتہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ اس لئے کہ خدا کے احسان کے بغیر وصال نہیں ہو سکتا یہ ہے احسان اللہ کا احسان جب بندے پر ہو جائے تو اس کی نمازوں میں خدانظر آنے لگ جاتا ہے۔ایک اور طریق سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام اس مضمون کو بیان فرماتے ہیں کہ نمازوں کو وہاں تک آگے بڑھاؤ ، وہاں تک نمازوں پہ محنت کرو کہ وہ جو سنتا ہے وہ بولنے لگ جائے۔یعنی خدا اور بندے کے تعلق میں نمازوں کے ذریعہ پہلے تو یک طرفہ مناجات کا تعلق قائم ہوتا ہے اور جب وہ تعلق بڑھتا چلا جاتا ہے اور انسان اس کے حضور یک طرفہ گزارشات کرتا چلا جاتا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ پھر ایک ایسا وقت آتا ہے کہ وہ جو سنتا ہے وہ پھر بولتا بھی ہے ، وہ جواب بھی دیتا ہے۔اس طرح لقاء کا مضمون مکمل ہو جاتا ہے۔وہ سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔یعنی پہلے تمہیں احساس کرنا پڑے گا کہ گویا وہ سامنے ہے ، پھر جب اس کی صفات کے گیت گاؤ گے تو یوں محسوس ہو گا جیسے واقعہ وہ کھڑا ہے اور تمہیں دیکھ رہا ہے اور بعد ازاں وہی وجود بولنے لگ جائے گا اور اپنے کلام سے اپنے وجود کا ثبوت دے گا۔یہ سب کچھ کیسے حاصل ہو سکتا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: وو ” جب تک خدا کسی کو پاک نہ کرے کوئی پاک نہیں ہوسکتا اور جب تک وہ خود وصال عطا نہ کرے کوئی وصال کو حاصل نہیں کر سکتا۔طرح طرح کے