خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 957 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 957

خطبات طاہر جلد۴ 957 خطبہ جمعہ ۶/ دسمبر ۱۹۸۵ء ایک یہ طریق ہے کہ آپ آئندہ ان کے فیض کو جاری کر دیں دوسرا پہلو نمازوں کے بھرنے کے متعلق یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم نہ ہو اور نماز کا مقصد واضح نہ ہو اس وقت تک مطالب معلوم ہونے کے باوجود بھی نماز نہیں بھرے گی۔بعض دفعہ پھل موٹا بھی ہو جاتا ہے لیکن پکتا نہیں۔تو جو لذت پکے ہوئے پھل کے کھانے سے حاصل ہوتی ہے اگر کچے پھل پر آپ منہ ماریں تو بالکل اس کا برعکس نتیجہ نکلتا ہے۔بعض پھل جو پکنے کے بعد نہایت شیریں ہو جاتے ہیں، اس سے بھر جاتے ہیں اگر کچے کھائے جائیں تو نہ صرف یہ کہ شدید تکلیف پہنچتی ہے بلکہ بعض دفعہ عوارض لگ جاتے ہیں اس لئے نماز کوصرف مطالب سے پڑھنا کافی نہیں جب تک ان مطالب میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا رس داخل نہ ہو جائے ، اس وقت تک ان مطالب میں مزہ نہیں آسکتا اور نماز کے ساتھ ایک ذاتی لگاؤ پیدا نہیں ہوسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نماز کا مقصد وصل بیان فرماتے ہیں۔فرماتے ہیں یہ تو ایک سواری ہے جس پر بیٹھ کر انسان کسی محبوب کی طرف جاتا ہے اور ہر دفعہ ہر سفر کا مقصد اس سے ملاقات ہے۔پس اگر آپ پانچ نمازیں پڑھتے ہیں تو نماز کی سواری پر بیٹھ کر آپ پانچ دفعہ خدا تعالیٰ کی ملاقات کے لئے روانہ ہوتے ہیں، اگر چھ نمازیں پڑھتے ہیں تو چھ دفعہ روانہ ہوتے ہیں اور اگر اس کے علاوہ اور نوافل پڑھ لیتے ہیں تو اتنی ہی دفعہ خدا کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے روانہ ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی مضمون کو احسان کی تفسیر کے طور پر بیان فرمایا ہے۔فرمایا احسان کیا ہے؟ اس طرح نماز پڑھنا کہ گویا تو خدا کو دیکھ رہا ہو۔یعنی وصل کی اور کیا تعریف ہے نہ صرف خدا کے حضور حاضر ہو بلکہ اسے دیکھ رہے ہو اور اگر اتنی توفیق نہیں ملتی اس مقام تک نہیں پہنچتے تو کم سے کم اتنا تو ہو کہ گویا خدا تمہیں دیکھ رہا ہے۔( بخاری کتاب الایمان حدیث نمبر ۴۸ ) ایسی نمازیں اصل میں وہ نمازیں ہیں جو شیریں اور پر لذت مضمون کے ساتھ بھر جاتی ہیں کیونکہ جس شخص کو آپ مخاطب کر رہے ہیں اور اس کی ثناء اور اس کی تسبیح کر رہے ہیں ، اس کی حمد کے گیت گا رہے ہیں اگر وہ سامنے موجود ہو اور آپ کو احساس ہو کہ وہ سن رہا ہے پھر آپ کی اس تعریف اور اس حمد و ثناء میں ایک خاص لذت پیدا ہو جائے گی اور اگر اس کی حاضری کا احساس نہ ہو یا یہ بھی احساس نہ ہو کہ وہ ہمیں دیکھ